سندھ کی وحدت اور وسائل کے تحفظ کے لیے جوہی میں عوامی تحریک کی ریلی

جوہی: عوامی تحریک کی جانب سے سندھ کی تقسیم کی مبینہ سازش، سندھ کی زمینوں اور قدرتی وسائل پر قبضوں، کارپوریٹ فارمنگ اور دریائے سندھ سے نئے کینالوں اور ڈیموں کی تعمیر کے خلاف عوامی بیداری مہم کے سلسلے میں جوہی میں ریلی نکالی گئی۔

ریلی بلاول پارک سے شروع ہو کر جوہی پریس کلب تک پہنچی۔ ریلی کی قیادت عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، ضلعی صدر ایڈووکیٹ نجیب الرحمان مہیسر، مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ماہ نور ملاح، سندھی طلبہ تحریک کے مرکزی آرگنائزر اعتزاز احمد گائینچو اور دیگر رہنماؤں نے کی۔

ریلی میں عوامی تحریک، سندھیانی تحریک، سندھی ہاری تحریک اور سندھی طلبہ تحریک کے کارکنوں کے علاوہ آبادگاروں، کسانوں، نوجوانوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور سندھ کی وحدت، زمینوں، پانی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حق میں نعرے لگائے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے لاہور کے بعض نجی تعلیمی اداروں میں سندھ کی تقسیم سے متعلق مبینہ مکالموں اور سیاسی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ’’نیشنل ڈائیلاگ‘‘ کے نام پر بعض سیاسی قوتیں سندھ کی تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

رہنماؤں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ وفاقی حکومت کی اتحادی ہونے کے باعث سندھ کی تقسیم کی مبینہ کوششوں کی مخالفت میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ تاریخی طور پر سندھی عوام کا وطن ہے اور اسے تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

عوامی تحریک کے رہنماؤں نے سندھ کی زمینوں اور وسائل پر مبینہ قبضوں، کارپوریٹ فارمنگ اور دریائے سندھ سے نئے کینال نکالنے کے منصوبوں کے خلاف سندھ کے عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے مقامی کسانوں اور آبادگاروں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کا خدشہ ہے۔

رہنماؤں نے جلال پور کینال سمیت تمام نئے کینالوں اور ڈیموں کی تعمیر فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق دریائے سندھ سندھ کی زندگی، معیشت اور تہذیب کی بنیاد ہے، اس لیے اس کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی یا تقسیم انہیں قابلِ قبول نہیں۔

عوامی تحریک نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی زمینوں پر مبینہ قبضوں، کارپوریٹ فارمنگ اور دریائے سندھ سے نئے کینالوں اور ڈیموں کے منصوبے فوری طور پر ختم کیے جائیں، جبکہ سندھ کے پانی، زمین اور قدرتی وسائل پر سندھ کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں