جمہوری گنجائشیں سکڑنے سے وفاق اور بنیادی حقوق کو خطرات لاحق، لقومی مکالمہ ناگزیر: رواداری ڈیموکریسی ڈائیلاگ

لاہور(انڈس ٹربیون) رواداری تحریک پاکستان کے زیرِ اہتمام لاہور میں ہونے والے ’’ڈیموکریسی ڈائیلاگ‘‘ میں پاکستان میں جمہوری اداروں، بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مقررین نے سیاسی انتقام کے خاتمے، آئین کی بالادستی، آزادیِ اظہار اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ سمیت آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی سفارش کی۔

ڈیموکریسی ڈائیلاگ میں طلبہ، سول سوسائٹی، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنوں اور نوجوان رہنماؤں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

رواداری تحریک پاکستان کے چیئرمین سیمسن سلامت اور وائس چیئرمین دیدار احمد میرانی نے پروگرام کی نظامت کی۔

عرفان مفتی نے پاکستان میں جمہوریت کے موجودہ حالات، جمہوری نظام کو درپیش مشکلات اور شہریوں کے بنیادی حقوق و آزادیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔

’نئے صوبوں کی بحث کا وقت درست نہیں‘

رواداری تحریک کے چیئرمین سیمسن سلامت نے ملک میں جمہوریت کے زوال، آئین سے انحراف اور پارلیمان سے باہر اہم قومی فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو موجودہ حالات میں غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو ایسے پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے جہاں اس کے لیے آئینی طریقہ کار موجود نہیں۔

ان کے مطابق سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں سمیت آئینی و جمہوری ادارے ہی ایسے معاملات پر بحث اور فیصلہ سازی کے مناسب فورمز ہیں۔

سیمسن سلامت نے کہا کہ پاکستان کے نسلی، لسانی اور علاقائی تنوع کے پیشِ نظر وفاقی نظام میں صوبائی خودمختاری کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو اپنے معاملات میں زیادہ اختیار دینا وفاق کے لیے خطرہ نہیں بلکہ سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاسی انتقام کے خاتمے کا مطالبہ

سیمسن سلامت نے سیاسی انتقام کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل محاذ آرائی نے قومی اداروں کو کمزور اور معاشرے میں تقسیم کو گہرا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے یا سیاسی مخالفین کو مذاکرات کے بجائے جیل بھیجنے سے جمہوری نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں سے قومی مسائل پر غیر مشروط مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے مطابق معیشت، آئینی حقوق، صوبائی ہم آہنگی اور جمہوری اصلاحات جیسے معاملات کا حل سیاسی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

بنیادی آزادیوں اور سیاسی نمائندگی پر گفتگو

ڈائیلاگ میں ’’جمہوریت کا مستقبل: جمہوری گنجائشیں، حقوق اور نمائندگی‘‘ کے عنوان سے ایک پینل بحث بھی ہوئی۔

مقررین نے کہا کہ بنیادی حقوق کا تحفظ اور سیاسی نمائندگی کو بامعنی بنانا صرف حکومت یا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں میڈیا، سول سوسائٹی اور جمہوری اداروں سمیت معاشرے کے دیگر طبقات کا بھی کردار ہے۔

پینل میں بیرسٹر امیر حسن (پیپلز پارٹی)، راحیلہ خادم حسین ایم پی اے (مسلم لیگ ن)، حافظ فرحت عباس ایم پی اے (تحریک انصاف)، ڈاکٹر تیمور رحمان (مزدور کسان پارٹی)، صحافی اور انسانی حقوق کے ماہر ظفر اللہ خان، سینئر صحافی و تجزیہ کار سجاد انور، سینئر صحافی مبشر بخاری، انسانی حقوق کے ماہر اور سابق چیئرپرسن سندھ ہیومن رائٹس کمیشن اقبال احمد ڈیتھو اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ رابعہ باجوہ شریک ہوئے۔

شرکاء نے آزادیِ اظہار، آزادیِ اجتماع اور آزادیِ انجمن پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی یا امنِ عامہ کے نام پر بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ان کا استعمال اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے نہ ہو۔

’سیاسی بنیادوں پر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے‘

ڈائیلاگ کے شرکاء نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم کرنے اور سیاسی بنیادوں پر گرفتار افراد کے مقدمات میں قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام شہریوں کے لیے قانون کی حکمرانی اور شفاف عدالتی عمل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات اور پارلیمانی عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

انتخابات سے پہلے اصلاحات کی تجویز

ڈیموکریسی ڈائیلاگ میں آئندہ عام انتخابات سے قبل تمام سیاسی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان انتخابی اصلاحات پر بات چیت کی سفارش بھی کی گئی۔

شرکاء کے مطابق انتخابات کی شفافیت کے لیے موجودہ قانونی و انتخابی نظام میں متعدد حفاظتی اقدامات موجود ہیں، تاہم ان کی مؤثر عمل داری کے لیے ریاستی اداروں کی غیر جانب داری ضروری ہے۔

انہوں نے انتخابی عمل پر سیاسی جماعتوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے انتخابات سے پہلے اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی تجویز دی۔

اقلیتوں کے تحفظ اور توہینِ مذہب کے قوانین پر ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کا مطالبہ

ڈائیلاگ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت، تشدد اور مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ نفرت اور تشدد کو ہوا دینے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور پارلیمان میں توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال، جھوٹے الزامات اور ہجوم کے تشدد کی روک تھام کے لیے ایک ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کیا جائے۔

شرکاء نے جبری تبدیلیِ مذہب، اقلیتوں کے خلاف تشدد اور دیگر مسائل سے تحفظ کے لیے قانون سازی پر بھی زور دیا۔

انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مذہبی اقلیتوں کی موجودہ نمائندگی کے طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے زیادہ مؤثر مواقع ملنے چاہییں۔

’سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات سے گریز کیا جائے‘

ڈیموکریسی ڈائیلاگ میں شہریوں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ سیاسی اختلافِ رائے کا احترام کریں اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔

شرکاء نے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے اشتعال انگیز تقاریر اور توہین آمیز زبان سے اجتناب کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سیاسی قیادت اور شہری دونوں کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں