کراچی (انڈس ٹربیون) سندھ حکومت اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے درمیان سکھر میں نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کے قیام کے منصوبے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، پی اے اے نے مجوزہ منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے سامنے پیش کردی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہفتہ کو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت اس کے ڈائریکٹر جنرل ایئر وائس مارشل ذیشان سعید کر رہے تھے۔ ملاقات میں صوبے میں ہوا بازی کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے جامع پیکیج کا جائزہ لیا گیا، جس میں سکھر میں مجوزہ گرین فیلڈ ایئرپورٹ، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی بہتری اور توسیع، حیدرآباد ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن اور سول ایوی ایشن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (کیٹی) حیدرآباد کو پاکستان کی پہلی مختص ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔
پی اے اے کے مطابق مجوزہ گرین فیلڈ ایئرپورٹ بالائی سندھ اور ملحقہ علاقوں کے لیے ایک علاقائی گیٹ وے کے طور پر قائم کیا جائے گا، جس کی سالانہ مسافر گنجائش تقریباً 16 لاکھ ہوگی جبکہ بڑے طیاروں کی آمد و رفت کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
مجوزہ ایئرپورٹ کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے رخ موڑنے والی پروازوں کے لیے متبادل ایئرپورٹ کے طور پر بھی استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق موجودہ سکھر ایئرپورٹ کو فضائی حدود، دستیاب زمین اور مستقبل میں توسیع کے حوالے سے مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے باعث نئے مقام پر گرین فیلڈ ایئرپورٹ کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
پی اے اے نے اجلاس کو بتایا کہ سکھر کے وسیع خطے میں بڑی آبادی موجود ہے اور مجوزہ ایئرپورٹ کے تین گھنٹے کے سفری دائرے میں 2 کروڑ 96 لاکھ سے زائد افراد آتے ہیں۔ نئے ایئرپورٹ سے بالائی سندھ میں فضائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
3 ہزار ایکڑ زمین درکار
پی اے اے کے مطابق نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کی تعمیر کے لیے تقریباً 3 ہزار ایکڑ زمین درکار ہوگی۔ اتھارٹی نے زمین کے حصول، اراضی ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معاملات میں حکومت سندھ سے تعاون طلب کیا۔
اجلاس میں ایئرپورٹ منصوبے کو خطے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ مربوط کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جبکہ پی اے اے نے سندھ حکومت کو منصوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت شرکت پر غور کرنے کی دعوت دی۔
تجویز کے مطابق زمین کو ممکنہ طور پر ایکویٹی کے طور پر شامل کرنے سمیت دیگر باہمی طور پر طے شدہ انتظامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ سکھر ایئرپورٹ کے لیے زمین اور رابطہ سڑکوں سے متعلق معاملات پر پی اے اے کے ساتھ مکمل تعاون اور رابطہ کاری یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے مجوزہ شراکت داری کے انتظامات کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ منصوبے کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔
بالائی سندھ کے لیے نیا فضائی گیٹ وے
پی اے اے کی جانب سے پیش کی گئی بریفنگ میں نئے ایئرپورٹ کو بالائی سندھ کے لیے اہم فضائی رابطے کے مرکز کے طور پر پیش کیا گیا۔ منصوبے کی تکمیل سے سکھر اور گرد و نواح کے علاقوں میں مسافر فضائی رابطوں کے ساتھ ساتھ کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی سہولت ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایئرپورٹ منصوبے کو علاقائی سڑکوں کے نیٹ ورک اور وسیع تر ترقیاتی منصوبہ بندی کے ساتھ مربوط کیا جائے، تاکہ نئے ہوائی اڈے سے پیدا ہونے والے معاشی اور سفری فوائد کو زیادہ سے زیادہ کیا جاسکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت ہوا بازی کے اہم منصوبوں میں ضروری سہولت فراہم کرے گی اور زمین، سڑکوں کے رابطے اور ضلعی انتظامیہ سے متعلق معاملات کے حل کے لیے متعلقہ محکمے پی اے اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے۔
ملاقات میں سندھ کے ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، مسافروں کی سہولیات اور رابطوں کو بہتر بنانے، ایئرپورٹس کی گنجائش بڑھانے، آپریشنل سیفٹی میں بہتری اور ہوا بازی سے متعلق تعلیم و مہارتوں کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ پی اے اے کے وفد نے وزیراعلیٰ کو منصوبوں کی صورتحال سے آگاہ کیا اور زمین کے حصول، اراضی کے ریکارڈ، سڑکوں کے رابطوں اور صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر امور میں حکومت سندھ کے تعاون کی درخواست کی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور کمشنر کراچی حسن نقوی نے شرکت کی۔ پی اے اے کے وفد میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ورکس اینڈ ڈویلپمنٹ) انجینئر سمیر سعید، ڈائریکٹر انجینئرنگ سروسز انجینئر کاشف شاہ، ڈائریکٹر کمرشل عبدالباسط، سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ایم انجینئر ظفر اللہ مہیسر، پروجیکٹ ڈائریکٹر گرین فیلڈ ایئرپورٹ سکھر انجینئر حافظ زاہد، پروجیکٹ ڈائریکٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ امپروومنٹ پروجیکٹ انجینئر عرفان خان اور سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ احتشام شامل تھے۔
*جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی*
اجلاس میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جاری بہتری اور جدید کاری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پی اے اے نے وزیراعلیٰ کو مسافروں کی سہولیات میں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی، جن میں فرش، چھتوں، دیواروں کی کلڈنگ، روشنی، سائن بورڈز، کاؤنٹرز، عمارت کے جوڑ اور کار پارکنگ شامل ہیں۔ منصوبے میں وادی سندھ کی تہذیب کے ثقافتی ورثے اور تاریخ کی عکاسی کرنے والے عناصر بھی شامل کیے جارہے ہیں۔ پی سی ون اور تفصیلی ڈیزائن کی تیاری جاری ہے، جبکہ منصوبے کی مجوزہ مدت دو سال ہے۔
بریفنگ میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اہم رن وے منصوبے کے بارے میں بھی بتایا گیا، جس کے تحت رن وے کی تعمیر نو کرکے اس کی لمبائی 3 ہزار 200 میٹر سے بڑھا کر 3 ہزار 500 میٹر کردی گئی۔ پریزنٹیشن کے مطابق یہ کام معاہدے کی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرکے فعال کردیا گیا، جبکہ ٹیکسی ویز، ایئر فیلڈ لائٹنگ اور نیویگیشن معاون نظام میں بھی بہتری لائی گئی۔
پی اے اے نے وزیراعلیٰ کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 285 فٹ بلند نئے اے ٹی سی ٹاور اور جدید 10 بے فائر اسٹیشن کی مجوزہ تعمیر سے بھی آگاہ کیا۔ نئی سہولیات کا مقصد نگرانی اور دیکھنے کی صلاحیت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی استعداد اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایئر سائیڈ آپریشنز کو بہتر بنانا ہے۔
ایئرپورٹ ٹرمینل کی مجوزہ توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ توسیع کے ایک آپشن کے تحت تقریباً ایک لاکھ 15 ہزار مربع میٹر پر مشتمل موجودہ مسافر ٹرمینل عمارت کو بڑھا کر تقریباً 4 لاکھ مربع میٹر کیا جائے گا، جبکہ بورڈنگ برجز کی تعداد 12 سے بڑھا کر 25 کردی جائے گی۔ دوسرے آپشن کے تحت مزید بڑے منصوبے میں 50 بورڈنگ برجز اور سالانہ 7 کروڑ 50 لاکھ مسافروں تک کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ایئرپورٹ کی توسیع اور جدید کاری کے لیے سڑکوں کے رابطوں، زمین سے متعلق امور اور دیگر صوبائی معاملات پر پی اے اے کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے۔
*حیدرآباد ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن*
پی اے اے نے حیدرآباد ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن کے منصوبے بھی پیش کیے اور اسے ممکنہ علاقائی ہوا بازی مرکز اور کراچی کے متبادل ایئرپورٹ کے طور پر بیان کیا۔ مجوزہ منصوبے میں موجودہ 7 ہزار فٹ رن وے کو 11 ہزار 500 فٹ تک توسیع دینے کے ساتھ جدید ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے اور حفاظتی نظام میں بہتری شامل ہے۔
منصوبے کا مقصد علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور حیدرآباد و ملحقہ علاقوں سے زرعی اور دیگر مصنوعات کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل رکاوٹوں سے متاثر ہونے والی پروازوں کے لیے اضافی متبادل راستہ بھی فراہم کرے گا۔
پی اے اے نے حیدرآباد ایئرپورٹ کی تقریباً ایک ہزار 473 ایکڑ اراضی سے متعلق اراضی کی منتقلی اور تجاوزات کے حل طلب مسائل کی نشاندہی کی اور معاملے کے حل اور اس اہم منصوبے پر عملدرآمد میں سہولت کے لیے حکومت سندھ سے تعاون طلب کیا۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ اراضی سے متعلق مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور حیدرآباد ایئرپورٹ کی ترقی میں سہولت کے لیے پی اے اے کے ساتھ رابطہ کاری کی جائے۔
*کیٹی کو ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز*
اجلاس میں سول ایوی ایشن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (کیٹی) حیدرآباد کو پاکستان کی پہلی مختص ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
1982میں 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم کیا گیا کیٹی، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے علاقائی تربیتی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے اور 49 ممالک کے شرکا سمیت 2,500 کورسز کے ذریعے 25 ہزار سے زائد افراد کو تربیت فراہم کرچکا ہے۔ اس کے چار اسکولز ایئر نیویگیشن سروسز، ایئرپورٹ سروسز، ریگولیٹری سروسز اور ایوی ایشن مینجمنٹ کا احاطہ کرتے ہیں۔
پی اے اے نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) سے منظور شدہ ایسی کوئی یونیورسٹی موجود نہیں جو خصوصی طور پر ہوا بازی اور متعلقہ شعبوں کے لیے مختص ہو۔ پی اے اے نے کہا کہ مجوزہ یونیورسٹی تربیت یافتہ ہوا بازی کے ماہرین کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے میں مدد دے گی۔
پی اے اے نے انسٹی ٹیوٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کوٹری کو حیدرآباد شہر سے ملانے والی سڑک کی تعمیر میں حکومت سندھ سے تعاون طلب کیا۔ اس نے مجوزہ ایوی ایشن یونیورسٹی کے لیے مقام پر موجود پہلے سے تعمیر شدہ ڈھانچوں کو استعمال کرنے کی تجویز بھی دی، تاہم یہ متعلقہ اراضی کے مسائل کے حل سے مشروط ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سڑک رابطے اور دیگر صوبائی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تاکہ ہوا بازی کی تعلیم کی اس سہولت کی ترقی میں آسانی پیدا کی جاسکے۔
*حکومت سندھ ہوا بازی کی ترقی میں سہولت فراہم کرے گی*
وزیراعلیٰ نے سندھ میں ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے صوبائی حکومت اور پی اے اے کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اپنے دائرہ اختیار میں ضروری سہولت فراہم کریں، خصوصاً زمین، سڑکوں کے رابطے، ترقیاتی منصوبہ بندی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری کے معاملات میں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بہتر ہوا بازی کا بنیادی ڈھانچہ سندھ کے بڑے شہروں اور معاشی مراکز کے درمیان رابطے مضبوط کرے گا، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، سیاحت میں سہولت فراہم کرے گا اور مسافروں کی خدمات بہتر بنائے گا۔
انہوں نے پی اے اے کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت سندھ اسٹریٹجک اہمیت کے منصوبوں کے لیے ضروری تعاون فراہم کرے گی اور متعلقہ محکمے صوبائی سطح کے مسائل حل کرنے اور عملدرآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پی اے اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے۔