خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی پر زور، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کا اعلان

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھانے اور صحت و تعلیم سمیت اہم شعبوں پر توجہ دینے پر زور دیا گیا۔

اجلاس کے آغاز میں کونسل کے ارکان نے اپنا تعارف کرایا اور اپنے متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کی بحالی مشاورتی کونسل کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیر کو ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔

انہوں نے کونسل کے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا، اس لیے تمام ارکان کو ان کے متعلقہ محکموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور ذمہ داریاں سمجھنے کے لیے چند روز کا وقت دیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے انتظامی معاملات تیزی سے آگے بڑھانے ہوں گے، بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور تمام کام مقررہ وقت پر مکمل کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق نئی انتظامیہ کی کارکردگی سابقہ انتظامیہ سے واضح طور پر مختلف ہونی چاہیے۔

گورنر نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے دیگر صوبوں کے کامیاب تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور امن قائم ہونے سے سیاحت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات بڑھیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کا عزم

عوام کے نام اپنے پیغام میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر آئین کے تحت ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے سیاسی الزام تراشی سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ خیبر پختونخوا میں امن، تحفظ اور استحکام کی بحالی پر مرکوز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب انہیں پائیدار امن فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

گورنر نے کہا کہ ریاست کی جنگ دہشت گردی، اس کی پشت پناہی کرنے والی سوچ اور ان نیٹ ورکس کے خلاف ہے جو قانون کی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون دہشت گردی کا سبب نہیں بلکہ اس کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے عزم ظاہر کیا کہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔

صحت، تعلیم اور روزگار پر توجہ دینے کا اعلان

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا اصل معیار بیانات نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے۔ ان کے مطابق مشاورتی کونسل صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے گی تاکہ شہریوں کو عملی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے کونسل کے ارکان کو یقین دلایا کہ صوبے کے معاملات میں پیش رفت کے لیے انہیں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا اور وہ ان کی رہنمائی کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں