اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے انتظامی معاملات چلانے میں معاونت کے لیے قائم کردہ 11 رکنی مشاورتی کونسل کے ارکان اور ان کے متعلقہ شعبوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کونسل میں مختلف شعبوں کے ماہرین اور تکنیکی امور پر عبور رکھنے والے افراد شامل کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ خصوصی حکمنامے کے تحت قائم کردہ مشاورتی کونسل کے ارکان صوبے کے مختلف محکموں اور شعبوں سے متعلق معاملات دیکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق کمشنر اور آئی جی جیل خانہ جات کفایت اللہ خان خیبر پختونخوا کے داخلہ امور، سابق چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا مالیاتی امور اور سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عامر جاوید قانونی معاملات کی نگرانی کریں گے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق تعلیم سے متعلق امور سابق عبوری صوبائی وزیر ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کے سپرد کیے گئے ہیں، جبکہ صحت کے شعبے کے معاملات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان دیکھیں گی، جو پاکستان آرمی کی سابق سرجن جنرل رہ چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ معدنیات اور کان کنی کے شعبے کے معاملات ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، جبکہ صنعت و تجارت سے متعلق امور سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد دیکھیں گے۔
اسی طرح مواصلات و تعمیرات کے شعبے کی ذمہ داری سابق عبوری صوبائی وزیر آصف رفیق آفریدی، مذہبی امور سے متعلق معاملات طیب قریشی، جو جامعہ اشرفیہ سے وابستہ ہیں، اور توانائی کے شعبے کے معاملات سابق سینیٹر عثمان سیف اللہ خان دیکھیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق اطلاعات و نشریات کے امور سابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سمر ہارون بلور کے سپرد کیے گئے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ اس مشاورتی کونسل کو صوبے کے مختلف شعبوں میں انتظامی معاملات چلانے میں معاونت فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔