اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ تھی، تاہم وفاقی حکومت نے مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا۔
اتوار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالثی کے دوران انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت سے پوچھا تھا کہ کیا وہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے جواب دیا تھا کہ مطالبات تسلیم ہونے کی صورت میں وہ لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے اتوار کی صبح فجر کے وقت وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور صبح 6 بجے ان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔
ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں یقین دہانی کرائی تھی کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات بھی کروائی جائے گی اور ان کا علاج بھی کروایا جائے گا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے مطابق وزیراعظم نے انہیں بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس معاملے پر کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد وہ واپس آگئے، تاہم صبح ساڑھے 9 بجے انہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم پی ٹی آئی سے متعلق سفارشات منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صبح ساڑھے 10 بجے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انہیں ٹیلی فون کیا اور آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب پی ٹی آئی کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے پر لانگ مارچ ختم کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔