اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ آئینی اقدامات کے تحت وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر متعدد آئینی عہدیداروں کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے معاملات چلانے کے لیے گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فوج پہلے ہی صوبے میں تعینات تھی، تاہم موجودہ صورت حال میں معاونت اور تعاون کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نیا حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق آئینی اقدامات کے تحت وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً گورنر خیبر پختونخوا کے ذریعے صوبے کے معاملات سے متعلق فیصلوں اور اقدامات کا اعلان کرے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جاری کردہ احکامات اور حکمناموں کی آئین کے مطابق پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے آئندہ 10 روز کے دوران توثیق حاصل کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے منگل کو پارلیمان کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کی تجویز
وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ ایک ضمنی حکم کے ذریعے گورنر خیبر پختونخوا کو 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو صوبے کے انتظامی معاملات میں معاونت کرے گی۔
ان کے مطابق اس کونسل میں ایسے افراد کو شامل کرنے کی تجویز ہے جو موجودہ صورت حال میں صوبے کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانے میں کردار ادا کر سکیں۔
12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ
اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع، جنہیں انہوں نے تقریباً حالتِ جنگ میں قرار دیا، کے انتظامی معاملات کی نگرانی کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت ایک الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سیکریٹریٹ متعلقہ اضلاع کے معاملات کی براہ راست نگرانی کرے گا اور وفاقی حکومت کو صورت حال سے آگاہ رکھے گا۔
ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں، تعمیر نو اور بحالی کے امور کی نگرانی کے لیے ایک الگ کونسل قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے کا افسر کرے گا۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے کے انتظامی معاملات چلانا اور متاثرہ اضلاع میں ترقی، تعمیر نو اور بحالی کے امور کو آگے بڑھانا ہے۔