کراچی: ایک ہی گھر سے پانچ لاشیں برآمد، “بھوک و افلاس میں لوگوں نے امداد کے بجائے ذلیل کیا، برداشت ختم ہوگئی“ خط

کراچی (انڈس ٹربیون) کراچی کے علاقے بن قاسم، فلک ناز میں ایک گھر سے میاں بیوی، ان کی بہن اور دو کمسن بچوں سمیت پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے کے بعد لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی ہیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

دلخراش واقعے میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے ایک خاندان کی جیب سے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط برآمد ہوا ہے، جس میں انتہائی کسمپرسی، شدید معاشی بحران، بے روزگاری اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے دی جانے والی ذہنی اذیت کا دردناک احوال بیان کیا گیا ہے.

پولیس کے مطابق مرنے والوں کی شناخت گھر کے مالک شاہ زیب، ان کی اہلیہ صبا، بہن شمائلہ اور دو کمسن بچوں آریان اور آئزن کے نام سے ہوئی ہے۔

ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شاہ زیب مالی مشکلات کا شکار تھے اور بظاہر شبہ ہے کہ مالی پریشانی کے باعث یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا۔ تاہم واقعے کی حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

پولیس حکام کے مطابق میاں بیوی کو گولیاں لگی ہیں، جبکہ دیگر تین افراد کو زہر دیے جانے کا ابتدائی شبہ ہے۔ اس پہلو کی تصدیق کے لیے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق گھر سے ایک پستول برآمد ہوا ہے، جبکہ شاہ زیب کی جیب سے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط بھی ملا ہے۔ پولیس نے خط اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنا لیا ہے۔

ہاتھ سے لکھے خط میں کیا درج ہے؟

Screenshot

* شدید مالی بحران اور بے روزگاری:
خط میں لکھا گیا ہے کہ خاندان شدید مالی تنگی اور بے روزگاری کا شکار تھا. حالات اتنے ابتر تھے کہ گھر کا کرایہ ادا کرنے، سلنڈر میں گیس بھروانے اور یہاں تک کہ کھانے کی بنیادی اشیا (پیاز تک) خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے.

* والد کا حادثہ اور علاج سے معذوری:
متوفی کے مطابق، والد کا حادثہ ہو چکا تھا مگر مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بروقت اور معیاری علاج نہیں کروایا جا سکا.

* رشتہ داروں اور ساتھیوں کی بے وفائی:
خط میں یہ شکوہ کیا گیا ہے کہ مشکل وقت میں جن لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہے تھے اور جن رشتہ داروں سے امیدیں وابستہ تھیں، انہوں نے دھوکہ دیا اور مدد کے بجائے صرف ذلیل کیا.

* انتہائی قدم اور مایوسی:
خط کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل عرصے تک فاقہ کشی، قرضوں، تضحیک اور امداد نہ ملنے کے باعث برداشت کی تمام حدیں ختم ہو چکی تھیں، جس کے بعد مجبور ہو کر یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا.

* نظام سے بے زاری:
خط کے آخر میں ملک کے موجودہ نظام اور قوانین پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں