اقرار الحسن کو نقاب پوش نامعلوم افراد گھر سے اٹھا کر لے گئے: اہلیہ

لاہور: صحافی اور عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نامعلوم افراد رات گئے ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے، تاہم اہلِ خانہ کو تاحال ان کی موجودگی اور حراست سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

فرح اقرار کے مطابق واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً تین بجے پیش آیا، جب گھر کی گھنٹی مسلسل بجنے پر وہ باہر آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند افراد گھر کے صحن میں جبکہ کچھ باہر موجود تھے، جنہوں نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور اقرار الحسن کو باہر لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

فرح اقرار نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ مذکورہ افراد گھر کا نچلا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔ ان کے مطابق ان افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لکھا ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقرار الحسن کے نیند سے بیدار ہو کر باہر آنے پر ان افراد نے انہیں اپنے ساتھ لے لیا۔ فرح اقرار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے جائی گئی۔

فرح اقرار کے مطابق واقعے کے بعد وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر گئیں، تاہم انہیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ موجود نہیں اور انہیں صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آنے کا کہا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن پولیس نے درخواست وصول نہیں کی۔ فرح اقرار کے بقول پولیس نے انٹرنیٹ سروس دستیاب نہ ہونے کو کارروائی میں رکاوٹ قرار دیا۔

ان کے مطابق مسلسل اصرار پر پولیس نے ایک رسید پر تحریری طور پر درج کیا کہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث درخواست کو سسٹم میں ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔

فرح اقرار کا کہنا ہے کہ اہلِ خانہ کو اب تک معلوم نہیں کہ اقرار الحسن کہاں ہیں، انہیں کون اپنے ساتھ لے گیا اور وہ کس کی تحویل میں ہیں۔ ان کے مطابق گھر آنے والے افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی گرفتاری کے وارنٹ دکھائے، جس کے باعث اہلِ خانہ کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ معاملہ گرفتاری کا ہے یا اغوا کا۔

دوسری جانب اقرار الحسن کے وکیل میاں اشفاق علی نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ اقرار الحسن کو کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اقرار الحسن کے مبینہ اغوا سے متعلق درخواست جمع کرانے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم حکام نے اسے وصول نہیں کیا۔

تاحال فراہم کردہ معلومات میں متعلقہ حکام کی جانب سے اقرار الحسن کی گرفتاری یا ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی مؤقف شامل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں