نیویارک(ویب ڈیسک) امریکا نے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو باضابطہ طور پر اپنی “غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں” کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ مجید بریگیڈ کو بی ایل اے کی 2019 کی “خصوصی عالمی دہشت گرد” (SDGT) قرار دی گئی حیثیت کے تحت اس کا نیا عرف بھی تسلیم کر لیا گیا ہے۔

پاکستان نے بی ایل اے کو پہلی بار 2006 میں کالعدم قرار دیا تھا جبکہ گزشتہ سال مجید بریگیڈ کو بھی ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اسلام آباد طویل عرصے سے اس گروپ کی دہشت گرد سرگرمیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
امریکی اقدام کو تجزیہ کار پاکستان میں سرگرم اس علیحدگی پسند تنظیم کے بارے میں واشنگٹن کے مؤقف میں سختی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے گزشتہ برسوں میں کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں 2024 میں کراچی ایئرپورٹ کے قریب اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر خودکش دھماکے، اور مارچ 2025 میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کا ہائی جیک شامل ہے، جس میں 31 عام شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 300 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
امریکی قوانین کے مطابق ایف ٹی او فہرست میں شمولیت کا مطلب ہے کہ کسی بھی امریکی شہری کے لیے اس تنظیم کو مادی مدد فراہم کرنا وفاقی جرم ہوگا جبکہ امریکی مالیاتی ادارے اس کے اثاثے منجمد کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ فیصلہ امریکی فیڈرل رجسٹر میں شائع ہوتے ہی نافذ العمل ہو گیا ہے۔
بی ایل اے کیا ہے؟
بلوچ لبریشن آرمی ایک مسلح علیحدگی پسند تنظیم ہے جو پاکستان کے وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان کی آزادی چاہتی ہے۔ یہ گروپ 2000 کی دہائی کے اوائل سے فعال ہے اور 2006 میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد زیادہ متحرک ہو گیا۔ پاکستان، برطانیہ، چین، ایران اور یورپی یونین پہلے ہی اسے دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔
بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، دہائیوں سے وقفے وقفے سے بغاوت کا شکار رہا ہے۔ علیحدگی پسند دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ خطہ 1947 میں زبردستی پاکستان میں شامل کیا گیا اور وفاقی حکومت نے اس کے قدرتی وسائل کا استحصال کیا جبکہ مقامی ترقی کو نظرانداز کیا۔ صوبہ اپنے معدنی ذخائر اور چین کے تعاون سے بننے والے گوادر بندرگاہ کے باعث اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ بی ایل اے چینی مفادات اور منصوبوں پر متعدد حملے کر چکی ہے۔
حکومتی ردعمل

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس فیصلے کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ طویل عرصے سے “نسلی و لسانی حقوق کے جھوٹے پردے میں معصوم شہریوں کا خون بہاتے رہے ہیں”۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی صورت قابلِ جواز نہیں اور دنیا کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔