بلوچستان: بی این پی ریلی میں خودکش دھماکے کے خلاف آل پارٹیز کی ہڑتال، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، متعدد زخمی، درجنوں گرفتار

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) بلوچستان بھر میں 2 ستمبر کو کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے جلسے کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف آل پارٹیز کی کال پر پیر کے روز مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جس کے نتیجے میں صوبے کے بڑے شہروں اور قصبوں میں تجارتی سرگرمیاں معطل رہنے کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب سے بلوچستان کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ درجنوں سیاسی رہنما اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

سیاسی جماعتوں نے اسے ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ 2 ستمبر کو بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٔ سردار عطاءاللہ مینگل کی برسی کی مناسبت سے شاہوانی اسٹیڈیم کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے اختتام پر شرکاء کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں کم از کم 15 افراد جانبحق اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے میں بی این پی سربراہ سردار اختر مینگل، پختون خواہ ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سمیت اہم قیادت معجزانہ طور محفوظ رہی۔

ہڑتال کی تفصیلات اور شاہراہوں کی بندش

آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے جاری کردہ ہڑتال کی کال پر بلوچستان کے تمام بڑے شہروں بشمول کوئٹہ، مستونگ، قلات، تربت، خضدار، نوشکی، دکی، ہرنائی، سیمت اور دیگر علاقوں میں کاروباری مراکز، دکانیں، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ سروسز مکمل طور پر بند رہیں۔ مظاہرین نے قومی شاہراہوں اور اہم مرکزی سڑکوں پر دھرنے دے دیے، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ کوئٹہ میں جناح روڈ، زرغون روڈ، کوئلہ پھاٹک، ائیرپورٹ روڈ، سریاب روڈ، مشرقی اور مغربی بائی پاس سمیت شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ دکی ٹو کوئٹہ روڈ، دکی ٹو پہنہاب روڈ اور دیگر شاہراہوں پر بھی بلاکڈز لگا دیے گئے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور گھنٹوں طویل ٹریفک جام پیدا ہو گئے۔

مستونگ میں نواب ہوٹل کے مقام پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہڑتالی مظاہرین پر بدترین شیلنگ کی گئی، جبکہ تربت میں بھی مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ دکی شہر میں مشرقی بائی پاس سردار محمد ناصر چوک پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی، جہاں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو پولیس نے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ شہر کے تمام تجارتی مراکز اور مارکیٹس بند رہنے سے دکی سنسان نظر آیا۔

خضدار میں بھی ہڑتال کے سلسلے میں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کی خواتین ونگ نے آر سی سی پل پر احتجاجی دھرنا دے کر خضدار (آر سی سی) روڈ کو بلاک کر دیا۔

پولیس کا تشدد اور گرفتاریاں

کوئٹہ میں سونا خان رند چوک میدان جنگ بن گیا جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما اور سابق ایم پی اے ملک نصیر احمد شاہوانی، ملک رفیق شاہوانی، لالا غفار مینگل، سونا خان رند چوک سے گرفتار کر لیے گئے۔ اسی طرح بی این پی کے سابق صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ، ضلع کوئٹہ کے جنرل سیکریٹری ریاض زہری، اور بی ایس او پجار کے وائس چیئرمین بابل ملک کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، شال زون کے صدر کبیر بلوچ، اور جامعہ بلوچستان یونٹ کے ڈپٹی سیکرٹری بھی گرفتار ہوئے۔ مستونگ میں بی این پی کے ضلعی صدر میر سکندر ملازئی سمیت کئی سیاسی قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ دکی میں پشتونخوا میپ کے صوبائی اور قبائلی رہنما حاجی عبدالرشید ناصر، پی ٹی آئی دکی کے جنرل سیکرٹری مجید ناصر سمیت 10 افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مجموعی طور پر بلوچستان بھر میں 100 کے قریب سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تربت میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، جہاں پولیس کی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سیاسی جماعتوں نے ان گرفتاریوں کو “حکومت کی ریاستی جبر کی پالیسی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ احتجاج کرنے کا جمہوری حق چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سیاسی جماعتوں اور مظاہرین کا موقف

مظاہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جاری بدامنی اور دہشت گردی کی روک تھام میں حکومت اور سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ خودکش حملے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام دہائیوں سے ریاستی بے حسی کا شکار ہیں، اور حکومت کی خاموشی اور بے عملی نے صوبے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور دیگر رہنماؤں نے جاري کرده بيان ميں کامیاب ہڑتال پر بلوچستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا صرف ایک پارٹی کے نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے ہیں۔ بلوچستان کے عوام، تاجر، ٹرانسپورٹرز اور وکلا نے بھرپور ہڑتال کر کے ریاست اور حکمرانوں کو کھلا پیغام دیا ہے کہ بلوچستان کی عوام ریاستی ظلم اور بربریت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔

انہوں نے حکومت کی بے حسی اور ناقص حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان میں امن قائم کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خودکش دھماکے کی تحقیقات شفاف ہوں اور متاثرین کو فوری انصاف ملے۔

اپنا تبصرہ لکھیں