نیپال صورتِ حال ایک ادھورے انقلاب کا نتیجہ ہے۔

مسرور شاہ

کمیونسٹ پارٹی نیپال (ماؤوادی) نے پرچنڈا کی قیادت میں 1996 سے نیپال میں بادشاہت کے خاتمے اور ماؤ کی تھیوری کے مطابق ’’عوامی جمہوری انقلاب‘‘ کے لیے مسلح عوامی جنگ کا آغاز کیا۔ ان کا تجزیہ تھا کہ نیپال نیم جاگیرداری اور نیم نوآبادیاتی معاشرہ ہے اور عوامی جمہوری انقلاب کے ذریعے جاگیرداری، سامراجی سرمایہ داری اور بادشاہت کا خاتمہ کر کے عوامی جمہوریت قائم کی جائے گی۔ یہ سب کچھ مسلح عوامی جنگ کے ذریعے پرانے اداروں اور ریاست کو اکھاڑ پھینک کر کیا جانا تھا۔ اس وقت نیپالی کانگریس پارٹی اور خود کو لیننسٹ کہلانے والی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونائیٹڈ مارکسسٹ لیننسٹ) آئینی بادشاہت کے نظام سے وابستہ جماعتیں تھیں۔

نیپالی ماؤ باغیوں نے 2006 تک 85 فیصد نیپال اپنے پیپلز لبریشن آرمی کے زیرِ کنٹرول کر لیا۔ اب صرف کٹھمنڈو پر قبضہ کر کے مسلح انقلاب برپا کرنا باقی تھا، مگر کٹھمنڈو میں بھارت، اسرائیل، امریکہ سمیت تمام عالمی قوتوں کی ایجنسیاں موجود تھیں تاکہ مسلح انقلاب کو روکا جا سکے۔ چین تو اُس وقت بھی اور آج بھی اس انتظار میں ہے کہ جب دنیا میں سرمایہ داری کا بھرپور استعمال کر کے نمبر ون معاشی طاقت بنے گا تو ’’سوشلسٹ‘‘ بن جائے گا (ہنسیں نہیں)۔

اس صورتِ حال میں نیپال کے اندر لینن والا انقلابی ماحول یعنی متبادل قوت قائم ہو چکی تھی، مگر 21ویں صدی کی نئی جیوپولیٹیکل صورتِ حال میں یہ مشکل تھا کہ کٹھمنڈو پر مسلح طریقے سے قبضہ کیا جائے جب پورا عالمی نظام آپ کے خلاف ہو۔ یہ سوال آج بھی انقلابی قوتوں کے سامنے ہے اور اُس وقت ماؤ باغیوں کے سامنے بھی تھا۔ نتیجے میں 2006 میں بھارت اور عالمی قوتوں کی نگرانی میں ماؤ باغیوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان ’’جامع امن معاہدہ‘‘ ہوا۔ اس کے تحت پرچنڈا نے مسلح جدوجہد کا خاتمہ کیا، 19 ہزار ماؤ گوریلوں کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں دے دیا گیا اور پرچنڈا مرکزی سیاست کا حصہ بنے۔ بدلے میں یہ طے پایا کہ بادشاہت کا خاتمہ کر کے نئی آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے۔

2008 میں ماؤ باغیوں نے الیکشن جیت کر اتحادی حکومت بنائی۔ مسلح گوریلوں کو نیپالی فوج کا حصہ بنایا گیا۔ بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا، مگر کمیونسٹ پارٹی نیپال (ماؤوادی) اب ایک عام پارلیمانی پارٹی بن گئی جو لبرل ڈیموکریسی اور فیڈرلزم کے طرز پر نیپال میں تبدیلی کی بات کرنے لگی۔ نیپالی ماؤازم کی اس خاص شکل کو ’’پرچنڈا کا راستہ‘‘ کہا گیا۔ عام طور پر ماؤازم کے مطابق نیم جاگیرداری، نیم نوآبادیاتی معاشرے میں سوشلزم کے قیام کے لیے پہلا قدم مسلح عوامی جنگ کے ذریعے جاگیرداری اور سامراجی تسلط کا خاتمہ اور عوامی جمہوری انقلاب ہوتا ہے، لیکن یہاں پرچنڈا نے مسلح جدوجہد کے نتیجے میں صرف آئینی طور بادشاہت کے خاتمے اور پارلیمان کے قیام کو ایک الگ قدم قرار دیا جس کے بعد باقی ماؤ کا عوامی جمہوری انقلاب قائم کیا جانا تھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ نیپالی ماؤ باغیوں اور عام پارلیمانی پارٹیوں میں کوئی فرق نہ رہا۔ اُس دور کے بعد ایک درجن سے زائد حکومتیں آتی جاتی رہیں۔ ماؤ کا عوامی جمہوری انقلاب تو دور کی بات، کمیونسٹ پارٹی نیپال (ماؤوادی) کئی بار نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ لیننسٹ) کے ساتھ مل کر صرف حکومت بنانے کے لیے اتحاد کرتی رہی جسے وہ ماضی میں نیم جاگیرداری اور نیم نوآبادیاتی نظام کی دُم پَکڑو بورژوا پارٹیاں کہتے تھے۔

نیپالی معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں نہ آنے کے سبب نیپال آج بھی پسماندہ معاشرہ ہے اور چین، بھارت کے جیوپولیٹیکل تضادات اور اثر میں پھنسا ہوا ہے۔ کچھ ماہ پہلے تو بادشاہت کی حامی قوتیں بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں جو مطالبہ کر رہی ہیں کہ آئینی بادشاہت کو واپس کیا جائے۔ اس وقت نیپال میں ماؤوادی نہیں بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (مارکسسٹ لیننسٹ) کی اتحادی حکومت تھی جس کا وزیرِاعظم کے پی اولی تھا۔ عوامی بغاوت ادھورے انقلاب کا نتیجہ ہے۔

لیکن کیا جنریشن زی کی یہ بغاوت نیپال میں مثبت تبدیلی لائے گی؟ بالکل نہیں۔ جنریشن زی بنیادی طور پر مایوس نسل ہے جس میں بہت زیادہ غصہ اور وقتی جوش ہے مگر کسی قسم کا مستقل نظریہ اور نقطہ نظر نہیں۔ ممکنہ طور پر نیپال مزید سیاسی عدم استحکام اور علاقائی طاقتوں کی رسہ کشی کا شکار ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں