امداد سومرو (سیہوانی)
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی آٹھ سالہ وزارتِ اعلیٰ کا سورج ڈوبنے والا ہے۔ کچھ ہی دنوں میں نیا وزیر اعلیٰ حلف اٹھائے گا۔ چہ میگوئیاں ہیں کہ شرجیل میمن کے امکانات زیادہ ہیں، ناصر شاہ بھی ’’ہاٹ فیورٹ‘‘ ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ مراد شاہ کا دور کیسا رہا؟
تنقید سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے: کسی بھی وزیر اعلیٰ کے پاس حقیقتاً کتنے اختیارات ہوتے ہیں؟ سندھ میں سسٹم کس قدر فعال ہے اور کتنے ’’ڈمی‘‘ وزیر اعلیٰ گزرے ہیں؟ مراد شاہ بنیادی طور پر ایک پروفیشنل ہیں۔ اعداد و شمار اور معیشت پر گرفت رکھتے ہیں۔ محنتی انسان ہیں۔ لیکن سیاست؟ عملی سیاست ان کا میدان ہی نہیں تھا۔ انٹری بھی سید عبداللہ شاہ کے بیٹے کی حیثیت سے ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ ان کا اندازِ حکومت عوامی یا سیاسی کم اور ایک سخت گیر افسر یا بیوروکریٹ کا زیادہ لگا۔
ان کی اپنی ٹیم اور حلقے کے لوگ؟ سوائے ایک آدھ کے باقی زیادہ تر وہی پرانے چہرے، خوشامدی، نااہل اور کرپٹ۔ مراد شاہ باصلاحیت تھے لیکن ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ٹیم نکمی تھی، نتیجہ صفر۔
سید عبداللہ شاہ کے اڑھائی سالہ دور اور قائم علی شاہ کے دور سے اگر تقابل کیا جائے تو حلقے کے لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں کہ ان ادوار میں وزیر اعلیٰ ہاؤس عام آدمی کے لیے کھلا تھا۔ عزت تھی۔ رسائی تھی۔ مراد شاہ کے ہاں یہ دروازہ چند خاندانوں تک محدود ہو گیا: آصف شاہ، حاجن شاہ، سکندر راہپوٹو، سلیم باجاری۔ کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ تیز رفتار ترقی ان خاندانوں کی ہوئی، عام ووٹر وہیں کا وہیں۔
ناں سڑکیں بنیں، ناں پانی آیا، ناں نکاسی درست ہوئی۔ سیہون اور بھان کے بیچ کے علاقے آج بھی کچرے کے ڈھیر پر کھڑے ہیں۔ تعلیمی ادارے، تربیتی مراکز، نوجوانوں کے لیے مواقع؟ پینے کا پانی ان کی یو سی واھڑ سے لے کر بڑے شہروں اور دیہاتوں میں ناپید ہے۔ گندے پانی کی نکاسی کا نظام خراب ہے۔ امن و امان اور صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
سہون میں کوئی نیا تعلیمی ادارہ نہیں بنا اور نہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور کیریئر کاؤنسلنگ کے لیے کوئی ادارہ یا سینٹر قائم ہو سکا۔ صرف خیرپور شہر اور سیہون کو گھوم کر دیکھ لیا جائے تو فرق سمجھ میں آ جائے گا۔ بس خواب ہی خواب۔ خزانہ محکمہ ہو یا اس کی ذیلی دفاتر، رشوت کا ریٹ آسمان پر۔ مراد شاہ کے اپنے ہاتھ صاف ہوں یا نہ ہوں، نظام کے پہیے ضرور پیسے کے بغیر نہیں گھومتے تھے۔
حلقے میں کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ سیہون اور بھان کے شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اور یہ سب صرف حلقے تک محدود نہیں رہا۔ صوبے کے بڑے شہروں کی حالت بھی دیکھ لیجیے۔ حکومت میں اپنے ہی وزیروں سے کھچاؤ، زرداری فیملی کی ناراضی، فریال تالپور اور آصف زرداری کا ٹھنڈا رویہ، ناصر شاہ کا برسوں سے مبارکبادیں وصول کرنا مگر وزارتِ اعلیٰ نہ پانا — یہ سب مل کر مراد شاہ کو ایک نیم کامیاب، نیم ناکام کہانی بنا گئے۔ اصولی طور پر ناصر شاہ سے موازنہ کیا جائے تو مراد شاہ اب بھی بہتر چوائس نظر آتے ہیں۔
(امداد سومرو کا شمار سندھ کے نامور صحافیوں میں ہوتا ہے، وہ سندھ کے سیاسی اور حکومتی معاملات میں گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ جنگ گروپ کے انگریزی روزنامے دی نیوز انٹرنیشنل میں بطور تحقیقاتی رپورٹر کام کر رہے ہیں۔ ان کا یہ تجزیہ ان کے فیس بک اکاؤنٹ سے لیا گیا ہے اور دی انڈس ٹربیون کیلئے یہ تجزیہ سندھی سے اردو میں تجزیہ کیا گیا ہے)