پروفیسر کو مبینہ طور پر غلط علاج سے معذور بنانے کا کیس — گمس ڈاکٹروں کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز

سکھر(رپورٹ: تاج رند) معروف شاعر، محقق اور ادیب پروفیسر ساجد سومرو کو مبینہ طور پر غلط تشخیص اور علاج کے نتیجے میں معذوری کا سامنا کرنے پر گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (GIMS) کے ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔

سینیئر سول جج گمبٹ کی عدالت نے GIMS کے انچارج ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی سمیت چار نیورو سرجنز ڈاکٹر امجد قریشی، ڈاکٹر طاہر اور ڈاکٹر سبطین شاہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 29 اکتوبر 2025 کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

گمبٹ کی عدالت نے گمس سربراہ سمیت چار ڈاکٹرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا ہے.

عدالت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر متعلقہ ڈاکٹران مقررہ تاریخ پر حاضر نہ ہوئے تو مقدمے کا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا جائے گا۔

پروفیسر ساجد سومرو نے اپنے بیان میں کہا کہ:

> “طویل جدوجہد اور صبر کے بعد عدالت نے بالآخر میری درخواست منظور کی ہے۔ میری زندگی غلط علاج کے باعث تباہ ہوئی، اب مجھے مکمل انصاف کی امید ہے۔”

پروفیسر ساجد سومرو ڈہائی سال قبل گمس ہسپتال میں مبینہ طور غلط تشخیص اور علاج سے معذور بن گئے تھے (تصویر فیس بک)

انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے وکیل سرفراز آخوند اور سابق ایڈووکیٹ شبیر شر کی قانونی معاونت سے ممکن ہوئی۔ سومرو کے مطابق، وہ گزشتہ تین برسوں سے جسمانی اذیت اور مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، اور امید رکھتے ہیں کہ عدالت سے انصاف ملنے کے بعد وہ اپنا علاج امریکا یا برطانیہ میں جاری رکھ سکیں گے۔

پروفیسر سومرو نے سندھ کی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی اور انصاف کے تقاضوں کے تحت ان کی قانونی جدوجہد میں اخلاقی حمایت فراہم کریں تاکہ انہیں بروقت انصاف حاصل ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں