انتہاپسندی اور دہشتگردی مسترد، وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے جمعرات کے روز تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی، یہ فیصلہ ملک بھر میں غزہ کے حق میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد کیا گیا جن میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ کراچی سے اسلام آباد تک اہم شاہراہیں اور شہر مفلوج ہو گئے۔

جمعرات کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں پنجاب حکومت کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیرِاعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے پابندی کی تجویز متفقہ طور پر منظور کی۔

وزارتِ داخلہ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ٹی ایل پی کی مبینہ ’’تشدد اور دہشت گردی‘‘ کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ تنظیم بارہا ملک میں بدامنی پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔

تحریکِ لبیک پاکستان 2015 میں ایک مذہبی تحریک کے طور پر قائم ہوئی اور 2016 میں سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر ہوئی۔ پی ٹی آئی حکومت نے 2021 میں بھی اس جماعت پر پابندی عائد کی تھی جو چھ ماہ بعد اس شرط پر ہٹا لی گئی کہ جماعت آئندہ پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوگی۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق موجودہ پابندی اس وعدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں لگائی گئی ہے۔

وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ ’’ماضی میں ٹی ایل پی کے مظاہروں اور ریلیوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔‘‘

ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا سے جماعت کے ’’انتہا پسندانہ رویے‘‘ پر رائے مانگی گئی، اور تقریباً تمام ارکان نے اتفاق کیا کہ ملک کو بار بار مفلوج کرنے والی اس تنظیم پر پابندی ضروری ہے۔

یہ اجلاس واحد ایجنڈا آئٹم کے تحت طلب کیا گیا تھا اور کسی دوسرے معاملے پر غور نہیں کیا گیا۔

حکومتی موقف

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے ’’دہشت گرد اور ریاست مخالف عناصر‘‘ سے پاک کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی کو ٹی ایل پی کے مذہبی نظریات سے اختلاف نہیں، لیکن جب بھی یہ جماعت احتجاج کرتی ہے، تشدد اور جانی نقصان کا باعث بنتی ہے، جیسے 2017 کے فیض آباد دھرنے میں ہوا۔‘‘

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ٹی ایل پی نے شدت پسند گروہ کی طرح رویہ اپنایا اور اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی رپورٹس کی بنیاد پر وفاقی حکومت کے پاس پابندی کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

ان کے مطابق وزارتِ داخلہ نے تمام صوبوں سے رپورٹس طلب کی ہیں جن میں گزشتہ دہائی کے دوران جماعت کی پرتشدد سرگرمیوں، اقلیتوں کو نشانہ بنانے، فرقہ واریت کو ہوا دینے اور دیگر امور کا جائزہ شامل ہے۔

قانونی پہلو

پاکستان کے قانونی فریم ورک کے تحت نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کالعدم تنظیموں اور افراد کی فہرستیں مرتب کرتی ہے۔ ان فہرستوں میں شامل ہونے والے افراد پر سفری پابندیاں، مالیاتی قدغنیں اور دیگر سخت نتائج عائد ہوتے ہیں۔

مزید برآں، افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی چوتھی شیڈول میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کی نگرانی کی جا سکے۔

ماضی میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، حزب التحریر، لشکرِ جھنگوی، جیشِ محمد اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں.

آئین کے آرٹیکل 17(2) کے مطابق، اگر وفاقی حکومت کسی سیاسی جماعت کو ملک کی سالمیت یا خودمختاری کے خلاف سرگرم قرار دے تو وہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیج سکتی ہے، جو اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

وفاقی حکومت پابندی کے اعلان کے 15 دن کے اندر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی پابند ہے۔ اسی طرح، حکومت الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 212 کے تحت کسی سیاسی جماعت کی تحلیل کے لیے بھی درخواست دے سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں