سندھ میں 13 لاکھ بچے مشقت پر مجبور، اکٹریت کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے

کراچی( انڈس ٹربیون) سندھ میں پانچ سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 13 لاکھ بچے مزدوری میں مصروف ہیں، جن میں سے 65 فیصد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ یہ انکشاف سندھ چائلڈ لیبر سروے 2023-24 میں کیا گیا ہے، جو محکمہ محنت سندھ اور یونیسیف کے اشتراک سے تقریباً 28 سال بعد پہلی بار مکمل کیا گیا ہے.

سروے کی باضابطہ رونمائی جمعے کے روز کراچی میں ہوئی، جس میں سیکریٹری محنت اسداللہ ابڑو اور یونیسیف کے نمائندہ پرم بہادر چند مہمانِ خصوصی تھے.

زراعت کے بعد صنعت اور تجارت میں بچوں کا استحصال

رپورٹ کے مطابق صوبے میں بچوں کی مزدوری کا سب سے زیادہ رجحان زراعت میں ہے، جس کے بعد مینوفیکچرنگ (12.4 فیصد) اور تھوک و پرچون تجارت (10.8 فیصد) کے شعبے آتے ہیں.

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے میں بچوں کی مزدوری کی شرح 1996 کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہوئی ہے۔ اس وقت شرح 20.6 فیصد تھی، جو اب 10.3 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم، اب بھی 13.7 فیصد لڑکے اور 6.6 فیصد لڑکیاں مزدوری پر مجبور ہیں۔

ضلع سجاول اور تھرپارکر میں شرح سب سے زیادہ

علاقائی اعداد و شمار کے مطابق، سجاول (35.1 فیصد) اور تھرپارکر (25.6 فیصد) میں بچوں کی مزدوری کی شرح سب سے زیادہ پائی گئی، جبکہ ملیر (2.7 فیصد) اور کراچی جنوبی (3 فیصد) میں یہ شرح سب سے کم ہے.

خطرناک حالات میں کام

سروے میں انکشاف ہوا کہ 50 فیصد سے زائد بچے خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں. جیسے کہ بھاری وزن اٹھانا (29.8 فیصد)، شدید گرمی یا سردی میں کام کرنا (28.1 فیصد)، اور دفتر یا کھیت میں بدسلوکی کا سامنا کرنا (17.5 فیصد).

سندھ میں 13 لاکھ بچے جبری مشقت پر مجبور، اکٹریت کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے

تعلیم سے محرومی

رپورٹ کے مطابق محنت کش بچوں میں صرف 41 فیصد اسکول جاتے ہیں، جبکہ غیر محنت کش بچوں میں شرح 69.9 فیصد ہے. عمر بڑھنے کے ساتھ تعلیم کا تسلسل مزید کم ہو جاتا ہے، اور 14 سے 17 سال کے صرف 29 فیصد بچے اسکول میں رہ پاتے ہیں۔

غربت اور گھریلو دباؤ

سروے کے مطابق غریب ترین گھرانوں میں 33.7 فیصد بچوں کو مزدوری کرنا پڑتی ہے، جب کہ امیر ترین طبقے میں یہ شرح محض 3.8 فیصد ہے۔ ایسے گھرانے جنہیں احساس یا بی آئی ایس پی کی مالی معاونت ملتی ہے، وہاں بھی بچوں کی مزدوری کی شرح زیادہ دیکھی گئی.

“ہم اپنے بچوں کا بچپن چھننے نہیں دیں گے”

سیکریٹری محنت اسداللہ ابڑو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سروے کے نتائج “ہمارے لیے ایک سخت یاد دہانی” ہیں.

> “ہم ایسا مستقبل قبول نہیں کر سکتے جہاں ہمارے بچے تعلیم اور بچپن سے محروم رہیں۔”

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ان شواہد کی روشنی میں بچوں کی ملازمت پر پابندی کے ایکٹ 2017ء پر سختی سے عملدرآمد اور زیادہ متاثرہ اضلاع میں ہدفی اقدامات کرے گی.

“ہر بچے کو کھیل، تعلیم اور خوشی کا حق ہے”

یونیسیف کی چائلڈ پروٹیکشن سربراہ جینیفر میلٹن نے کہا کہ یہ سروے پالیسی سازی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے.

> “ہر بچے کو سیکھنے، کھیلنے اور خوش رہنے کا حق رکھتا ہے. نہ کہ مزدوری کا۔”

انہوں نے کہا کہ یونیسیف حکومت سندھ کے ساتھ مل کر اس ڈیٹا کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل محنت ظفر علی نظامانی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت اور یونیسیف کی شراکت داری بچوں کی مزدوری کے خاتمے کی جدوجہد میں ایک مضبوط قدم ہے.

پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ریجھو مل سجنانی اور سروے کوآرڈینیٹر عزت چاچڑ نے کہا کہ بچوں کی مزدوری کے خاتمے کے لیے حکومت، ترقیاتی اداروں اور کمیونٹیز کو مل کر کام کرنا ہوگا.

اعداد و شمار تشویشناک، تعلیم کے ذریعے بچوں کو مشقت سے آزاد کرائیں گے: وزیرِ اعلیٰ سندھ

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ محنت اور اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسف) کے تعاون سے تیار کی گئی “سندھ چائلڈ لیبر سروے 2023-24” کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1996 سے 2024 تک سندھ میں بچوں کی جبری مشقت میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔

تاہم وزیرِ اعلیٰ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی سندھ میں لگ بھگ 13 لاکھ بچے مختلف شعبوں میں جبری مشقت پر مجبور ہیں، جن میں اکثریت کا تعلق زراعت اور صنعت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار باعثِ تشویش ہیں.

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے گزشتہ کئی برسوں سے جاری عملی اقدامات اور پالیسیوں کے نتیجے میں بچوں کی جبری مشقت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے. ان اقدامات میں 2017 کا چائلڈ ایمپلائمنٹ پروہیبیشن ایکٹ پر عملدرآمد، غیر رسمی تعلیم اور اسکل سینٹرز کا قیام و توسیع، محنت کے محکمے کی جانب سے غیر قانونی مشقت کے خلاف چھاپے، اور یونیسف کے تعاون سے عوامی آگاہی مہمات شامل ہیں.

وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ تعلیم، بالخصوص فنی تعلیم کے فروغ اور غربت میں کمی کے ذریعے ہی بچوں کی جبری مشقت کا خاتمہ ممکن ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں