سوڈان خانہ جنگی: پچاس لاکھ بچے بھوک، افلاس اور بیماریوں کا شکار، فوری امداد کی جائے: یونیسیف

جنیوا(ویب ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے خطے ڈافور میں تقریباً پچاس لاکھ بچے شدید محرومی اور خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ملک میں جاری خانہ جنگی چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔

یونیسیف نے اس صورتحال پر “چائلڈ الرٹ” جاری کیا ہے، جو انتہائی سنگین حالات میں ہی دیا جاتا ہے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ ڈارفر کے لیے اس نوعیت کی ہنگامی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

سوڈان میں یونیسیف کے نمائندے شیلڈن ییٹ نے جنیوا میں ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بچے شدید خطرات سے دوچار ہیں، جہاں ان کا بچپن خوف اور نقصان کی علامت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق گھروں کو جلایا جا رہا ہے جبکہ اسکولوں اور طبی مراکز کو نقصان پہنچایا گیا یا مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈارفر میں جاری جنگ کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے، جہاں وہ نہ صرف ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں بلکہ بے گھر ہو کر بھوک، بیماری اور ذہنی صدمے کا شکار بھی ہیں۔

واضح رہے کہ سوڈان میں خانہ جنگی اپریل 2023 میں سوڈانی آرمی اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شروع ہوئی، جس میں ڈارفر ایک مرکزی محاذ بن چکا ہے۔ یہ خطہ ماضی میں بھی 2003 کے تنازع کے دوران نسلی بنیادوں پر تشدد اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا مرکز رہا ہے۔

یونیسیف کے مطابق موجودہ بحران کے باوجود عالمی سطح پر اس پر توجہ کم دی جا رہی ہے، اور سوڈان کے لیے ادارے کی رواں سال کی انسانی امداد کی اپیل کا صرف 16 فیصد حصہ ہی فنڈ ہو سکا ہے۔

ادارے نے بتایا کہ 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران ملک بھر میں کم از کم 160 بچے ہلاک اور 85 زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یونیسیف کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ شہر الفاشر ہے، جہاں اپریل 2024 سے اب تک کم از کم 1,300 بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جنسی تشدد، اغوا اور بچوں کو مسلح گروہوں میں بھرتی کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ادھر شمالی ڈارفر کے دو مزید علاقوں میں فروری کے دوران شدید غذائی قلت قحط کی سطح تک پہنچ گئی ہے، جس کی تصدیق اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ ادارہ برائے غذائی قلت اور قحط کی سطح جانچنے کا عالمی نظام نے کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں