سکھر: لیبر اسکوائر کالونی کیس، عدالت کی سماعت 6 مئی تک ملتوی

سکھر (ویب ڈیسک): سندھ ہائیکورٹ بینچ سکھر میں لیبر اسکوائر کالونی کے فلیٹس پر قبضوں، غیر قانونی الاٹمنٹ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق سماعت سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں جسٹس امجد علی بوہیو اور جسٹس علی حیدر دریشانی پر مشتمل آئینی بینچ نے کی۔

درخواست گزار شہزاد مغل اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ضلعی انتظامیہ فلیٹس سے قبضے ختم کرانے میں ناکام رہی ہے اور غیر قانونی الاٹمنٹ بھی منسوخ نہیں کی گئی۔

وکیل واجد علی شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لیبر اسکوائر کے فلیٹس غیر متعلقہ افراد کو دیے گئے ہیں، جبکہ مزدور طبقے کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالونی میں پانی، نکاسی آب، صفائی، گیس اور بجلی کی سہولیات بھی شدید متاثر ہیں۔

سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر سکھر کی غیر حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور فوری پیش ہونے کا حکم دیا۔

بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سکھر نے پیش ہو کر پیش رفت رپورٹ کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں