سکھر/خیرپور(انڈس ٹربیون) سندھ کے نامور شاعر پروفیسر ساجد سومرو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی 13 سالہ بھانجی خیرپور کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث جاں بحق ہو گئی۔
پروفیسر ساجد سومرو کے مطابق دو روز قبل 13 سالہ مرہم بنت الطاف کو پیٹ میں درد کی شکایت پر اسپتال لایا گیا، جہاں بغیر الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کیے اس کا آپریشن کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران بنیادی سہولیات کا بھی فقدان تھا اور آپریشن تھیٹر میں پنکھا تک موجود نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر علی گوہر بوزدار کی مبینہ غفلت کے باعث ان کی بھانجی زندگی کی بازی ہار گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بچی کو آپریشن کیلئے ضرورت سے زیادہ نشہ دیا گیا، آپریشن ہوجانے کے باوجود بچی ہوش میں نہ آ سکی اور شگر لیول گر جانے کے باعث بچی نے دم توڑ دیا. انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
پروفیسر ساجد سومرو نے خبردار کیا کہ اگر کیس درج نہ کیا گیا تو وہ انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔