ذوالفقار علی ذلفی
سندھ حکومت کے ترجمان شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی فلم “دھرندھر” کے منفی پروپیگنڈے کے خلاف جنوری میں “میرا لیاری” کے نام سے فلم ریلیز کی جا رہی ہے ـ بقول ان کے یہ فلم لیاری کا مثبت چہرہ پیش کرے گی ـ فلم کے ہدایت کار ابو علیحہ نے البتہ وضاحت کی ہے کہ اس فلم کا “دھرندھر” سے کوئی تعلق نہیں ہے ـ ان کے مطابق فلم کا نام “بہناز” تھا جسے سندھ حکومت کی خواہش پر “میرا لیاری” کیا گیا ہے ـ
ہندی سینما نے لیاری کی جس مسخ شکل کو گلوبلائز کیا ہے اس کی تشکیل میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اہم کردار رہا ہے ـ لیاری کو منظم جرائم کے اندھے گڑھے میں دھکیلنے والے جن اہم کرداروں کا نام آتا ہے ان میں پاکستان پیپلز پارٹی سرِ فہرست ہے ـ
لیاری کے غنڈوں کی سیاسی سرپرستی کا آغاز یوں تو ہارون خاندان کے سر بندھتا ہے مگر ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے سیاسی رہنما تھے جنہوں نے لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کا منظم استعمال کیا ـ بھٹو نے رحمان بلوچ کے والد اور چچاؤں (داد محمد بلوچ، بیک محمد بلوچ اور شیر محمد بلوچ) کے ذریعے باقاعدہ عسکری ونگ تشکیل دیا ـ لیاری کے علاقے ریکسر لائن میں واقع پاک بلوچ اسکول بھٹو مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنانے والے عقوبت گاہ کے طور پر چُنا گیا ـ بھٹو نے داد محمد بلوچ گینگ کے ساتھ ساتھ سلیمان بروہی گینگ کو بھی منظم کرکے اپنے ساتھ رکھا ـ بعد میں داد محمد بلوچ اور سلیمان بروہی کے درمیان کالے دھن کی بندر بانٹ پر لڑائی چھڑ گئی جس کے نتیجے میں دادل گینگ کا فتح محمد بلوچ مارا گیا ـ اس گینگ وار کے دونوں فریقوں کو پی پی کے اندر موجود دو مختلف دھڑوں کی حمایت حاصل رہی ـ
بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اقبال بلوچ عرف بابو ڈکیت کو اپنی سیاسی سرپرستی میں لیا ـ اقبال بلوچ لیاری کے پہلے گریجویٹ گینگسٹر کہلائے ـ نوے کی دہائی کے وسط میں ایم کیو ایم کو سبق سکھانے کے لیے اقبال بلوچ کی قیادت میں لیاری کی اکلوتی مہاجر آبادی عثمان آباد پر چڑھائی کی گئی ـ غیر انسانی مفادات کی بنیاد پر چھیڑی جانے والی اس جنگ کو بلوچ مہاجر فسادات کا نام دیا گیا ـ اقبال بلوچ کی قیادت میں ہونے والی اس جارحیت میں پہلی دفعہ عبدالرحمن بلوچ کا نام سامنے آیا ـ قتل و غارت گری میں مہارت کے باعث نوجوان رحمان بلوچ “ریمبو” کے نام سے معروف ہوئے ـ
عثمان آباد، رامسوامی، گھاس منڈی اور قرب و جوار کی محنت کش مہاجر آبادی کو جبری ہجرت کا سامنا کرنا پڑا ـ اقبال بلوچ اور رحمان بلوچ کے اس “کارنامے” کو ستائش کی نگاہ سے دیکھا گیا ـ بالخصوص اقبال بلوچ کی تو لاٹری نکل آئی ـ اسی دوران لیاری میں ایک نعرہ زبان زد عام ہوا :
اوپر پی پی کا جھنڈا
نیچے منشیات کا اڈہ
پیپلز پارٹی کی آشیرباد سے اقبال بلوچ نے اپنے سخت جان حریف اللہ بخش بلوچ کو لیاری سے بے دخل کرکے پورے لیاری پر اپنی دھاک بٹھا دی ـ اقبال بلوچ اور اللہ بخش بلوچ کی اس خونی گینگ وار کے نشانات آج بھی “ینگ جان فٹ بال کلب” کی دیواروں پر دیکھے جا سکتے ہیں ـ
جنرل پرویز مشرف کے دور میں لیاری کو بلوچستان کی قوم پرست سیاست سے دور رکھنے کے لئے رحمان بلوچ کو آگے لایا گیا ـ رحمان بلوچ نے “خفیہ ہاتھوں” کی مدد سے ایک منظم فوجی نیٹ ورک تشکیل دے کر نہ صرف لیاری بلکہ پورے کراچی میں اپنے جال پھیلا دیے ـ
بے نظیر مشرف ڈیل کے بعد آصف علی زرداری نے رحمان بلوچ گود لے لیا ـ واقفان حال کے مطابق اسی دوران رحمان بلوچ کو تین سرکردہ بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور واحد کمبر بلوچ کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ـ رحمن بلوچ نے تاہم اس سے انکار کردیا ـ ایک گینگسٹر کے مطابق سردار (رحمان بلوچ) قوم پرستوں سے الجھنا نہیں چاہتے تھے ـ
بے نظیر بھٹو کے قتل کی رات اور اس کے اگلے دنوں میں کراچی پر جو قیامت ٹوٹی اس میں پیپلز پارٹی کی اس عسکری گینگ کا کردار ایک کھلا راز ہے ـ رحمان بلوچ جب اپنے قد سے بڑا ہوگیا اور اس نے عوامی فلاح کا راستہ اختیار کرکے ایک متوازی لیڈر شپ تشکیل دینے کی کوشش کرکے پی پی کو چیلنج کرنا شروع کیا تو اس کو مزاکرات کے بہانے بلا کر قتل کردیا گیا ـ عین ہندی فلموں کے اسٹائل میں اس سازشی قتل کا سہرا چوہدری اسلم کے سر باندھ کر انہیں ہیرو بنا دیا گیا ـ
رحمان بلوچ کے بعد گینگ کا سیاسی چہرہ عزیر بلوچ ، ترجمان ظفر بلوچ اور عسکری ونگ کے کمانڈر نور محمد بلوچ عرف بابا لاڈلا بن گئے ـ پیپلز پارٹی نے اس منظم گینگ کے ذریعے کراچی کی معیشت پر قبضہ کرنے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کو چیلنج کردیا ـ ایم کیو ایم نے غفار بلوچ عرف غفار زکری گینگ اور کچھی بلڈر مافیا کی حمایت کرکے عقب سے حملہ کرنے کی کوشش کی ـ لاشوں کی سیاست نے نہ صرف لیاری بلکہ پورے کراچی کی سیاسی اور سماجی ساخت کو تباہ کردیا ـ
آج سندھ حکومت کس منہ سے کہتی ہے کہ وہ ایک فلم کے ذریعے لیاری کا مثبت چہرہ دکھائے گی؟ ـ یہ لیاری کے سیاسی شعور اور سماجی ساخت کی مزاحمت ہے کہ اس نے بدترین گینگ وار کے دوران بھی علم و ہنر کا ساتھ نہ چھوڑا ـ فن کار فلمیں بناتے رہے، فٹ بال ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوتا رہا، موسیقی ، مشاعرے اور سیاسی مجالس منعقد ہوتے رہے ـ گو کہ خون ریزی اور گینگ کلچر نے لیاری کی کمر ضرور توڑی، آج مصنوعی سیاسی کلچر اور غیر سیاسی این جی اوز کی طاقت بڑھ گئی ہے مگر اس کے باوجود لیاری نے ہمت نہیں ہاری ـ سندھ حکومت نے لیاری کو اس کے سیاسی شعور کی جو سزا دی ہے اس کا حساب تاحال باقی ہے ـ
لیاری کسی سرکاری حمایت یافتہ فلم کا محتاج نہیں ہے ـ
(لکھاری کے موقف سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)