کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف طویل اور مسلسل جدوجہد کرنے والے معروف سماجی کارکن ماما قدیر بلوچ سنیچر کے روز انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ماما قدیر رواں سال عیدالفطر کے بعد سے علیل تھے اور گزشتہ چند روز سے کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے۔
ان کے خاندانی ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ماما قدیر کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے سوراب میں کی جائے گی۔
لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ (VBMP) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق ماما قدیر دمے کے عارضے میں مبتلا تھے، جبکہ چند ہفتے قبل ان میں ٹی بی اور جگر کے مرض کی بھی تشخیص ہوئی تھی۔
VBMP نے ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث کوئٹہ میں قائم تنظیم کا احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی عارضی طور پر بند رہے گا۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد
ماما قدیر بلوچ کو پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔
سن 2009 میں ان کے بیٹے جلال الدین ریکی کی گمشدگی اور بعد ازاں تشدد زدہ لاش ملنے کے بعد ماما قدیر اس تحریک کا نمایاں چہرہ بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو منظم کیا اور ریاستی اداروں سے جواب دہی کا مطالبہ مسلسل جاری رکھا۔
ماما قدیر نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین لانگ مارچ بھی کیا، جو کوئٹہ سے اسلام آباد تک سینکڑوں کلومیٹر پر محیط تھا۔ اس مارچ نے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کیا۔
ماما قدیر بلوچ کون تھے؟
ماما قدیر بلوچ کا تعلق بلوچستان کی قلات ڈویژن کے علاقے سوراب سے تھا۔ وہ 6 جون 1940 کو سوراب میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سوراب سے حاصل کی، مڈل تک تعلیم وہیں مکمل کی، میٹرک خضدار سے جبکہ انٹرمیڈیٹ کوئٹہ سے کیا۔ عملی زندگی میں وہ ایک سادہ مزاج مگر مضبوط عزم رکھنے والے فرد کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ان کے ساتھیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ماما قدیر بلوچ کا انتقال بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری تحریک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔