نیویارک(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے پیش کی گئی دو مختلف قراردادوں میں سے ایک منظور جبکہ دوسری مسترد کر دی گئی، جبکہ پاکستان نے دونوں قراردادوں کی حمایت میں ووٹ دیا۔
بدھ کو ہونے والے اجلاس میں خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور کر لی گئی جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ تاہم روس کی جانب سے پیش کردہ وہ قرارداد منظور نہ ہو سکی جس میں خطے میں تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس کے دوران دونوں قراردادوں کے مسودے پیش کرنے پر بحرین اور روس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اس تنازع کے فوری حل اور کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔
خلیجی ممالک کی قرارداد کیوں منظور ہوئی؟
خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرے۔ اس قرارداد کو 135 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی جو کسی قرارداد کے لیے مشترکہ سرپرست ممالک کی تاریخی طور پر سب سے بڑی تعداد قرار دی جا رہی ہے۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے بحرین کے نمائندے نے کہا کہ اس بڑی حمایت سے واضح ہوتا ہے کہ خلیج کا خطہ عالمی امن اور توانائی کی فراہمی میں اہم کردار رکھتا ہے اور یہ معاملہ صرف علاقائی نوعیت کا نہیں۔
اجلاس کے دوران امریکہ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی اشتعال انگیزی اور پڑوسی ممالک کو دباؤ میں رکھنے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
تاہم روس اور چین نے اس قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسودے میں تنازع کی بنیادی وجوہات کو شامل نہیں کیا گیا اور اسے متوازن انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔
اس قرارداد میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہونے والی بمباری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ان کارروائیوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔
روسی قرارداد کیوں مسترد ہوئی؟
روس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں خطے کے تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم یہ قرارداد مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی۔
روسی قرارداد کے حق میں روس، پاکستان، چین اور صومالیہ نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے اس کی مخالفت کی۔ برطانیہ، فرانس، بحرین، کولمبیا، کانگو، ڈنمارک اور یونان سمیت کئی ممالک نے ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔
اجلاس میں سخت بیانات
اجلاس کے دوران ایران نے خلیجی ممالک کی قرارداد کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اس کی حمایت کرنے والے ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔
ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق ایران پر حملوں کے دوران 1300 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایران میں میناب کے ایک سکول پر حملے میں 110 بچوں سمیت 168 افراد مارے گئے۔
اسرائیلی نمائندے نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایران کو فوری طور پر یہ کارروائیاں بند کرنا ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کو محض ایک پردے کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اپنے جوہری پروگرام کو مضبوط کر سکے۔
پاکستان نے دونوں قراردادوں کی حمایت کیوں کی؟
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سلامتی کونسل کے سامنے دو قراردادیں پیش کی گئی تھیں اور پاکستان نے دونوں کی حمایت کی۔
ان کے مطابق خلیجی ممالک کی قرارداد کی حمایت کا مقصد بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا جہاں حملے ہوئے۔
ساتھ ہی پاکستان نے روس کی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کا مطالبہ پاکستان کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔
پاکستان نے اس موقع پر ایران کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کا بھی اعادہ کیا اور ایران میں ایک سکول پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ 28 فروری کو ایران پر ہونے والے حملے اور اس کے بعد کے واقعات نے عالمی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے اسرائیل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے کسی ایک ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل دے۔