گوادر(ویب ڈیسک)بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر سمیت چار افراد کو مستونگ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا، جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی کے مطابق واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا، جب یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور، پرائیویٹ سیکریٹری ڈاکٹر ارشاد اور ان کا ڈرائیور گوادر سے کوئٹہ جا رہے تھے۔
ترجمان کے مطابق مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ کے مقام پر قومی شاہراہ این اے-25 پر مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر چاروں افراد کو اغوا کر لیا۔
بابر یوسفزئی نے خبر رساں ادارے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپوں اور تلاشی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغویوں کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو حکومت بلوچستان نے 25 اکتوبر 2021 کو یونیورسٹی آف گوادر کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا تھا، جبکہ انہوں نے 29 اکتوبر 2021 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔
یاد رہے کہ گوادر میں یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز جنوری 2017 میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے طور پر ہوا تھا، تاہم 25 اکتوبر 2021 کو اسے مکمل خودمختار یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔
اس وقت یونیورسٹی آف گوادر میں تقریباً 2000 طلبا زیر تعلیم ہیں، جبکہ یہاں فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سمیت دو اہم فیکلٹیز کام کر رہی ہیں۔