پسند کی شادی پر سندھ سرکار متحرک، جوڑے اور گاؤں والوں کی زندگی اجیرن بنانے کا الزام

نوشہرو فیروز(انڈس ٹربیون)ضلع نوشہرو فیروز کے تحصیل محرابپور سے تعلق رکھنے والی طوبٰی میمن اور عاصم نانگراج کی پسند کی شادی کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی، جبکہ سماجی رہنماؤں نے پولیس پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور پورے گاؤں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق طوبٰی میمن اور عاصم نانگراج نے گزشتہ ہفتے کراچی کی ایک عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد لڑکی کے اہلخانہ کی مدعیت میں نوشہرو فیروز پولیس نے عاصم نانگراج اور اس کے خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

متاثرہ خاندان اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ہیوی مشینری کے ذریعے عاصم نانگراج کا گھر اور بھینسوں کا باڑہ مسمار کردیا۔ اس کے علاوہ گاؤں میں مسلسل پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جس کے باعث علاقے کے لوگ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔

سماجی رہنما جاوید نانگراج نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور ڈی آئی جی نوابشاہ فیصل بشیر میمن، جو میمن اتحاد کے رکن ہیں، نے اس معاملے کو برادری کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شخصیات کے احکامات پر پولیس نہ صرف جوڑے بلکہ پوری نانگراج برادری کو نشانہ بنا رہی ہے۔

جاوید نانگراج کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے پورے گاؤں کا پولیس نے محاصرہ کر رکھا ہے، جبکہ مبینہ طور پر لوٹ مار، خواتین پر تشدد اور گھروں میں چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

انہوں نے اعلیٰ عدلیہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس کارروائیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

دوسری جانب پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں