بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں فوجی قیادت کے خلاف جاری بڑے کریک ڈاؤن کے دوران دو سابق وزرائے دفاع کو کرپشن کے الزامات میں معطل سزائے موت سنا دی گئی۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق سابق وزیر دفاع وی فینگھے اور لی شینگ فو کو فوجی عدالت نے رشوت ستانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی، تاہم دو سالہ مہلت کے بعد ان کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی جائے گی اور انہیں پیرول کی سہولت بھی حاصل نہیں ہوگی۔
وی فینگھے 2018 سے 2023 تک وزیر دفاع رہے جبکہ لی شانگفو نے 2023 میں ان کی جگہ سنبھالی، تاہم وہ آٹھ ماہ سے بھی کم عرصہ اس عہدے پر فائز رہے۔ دونوں رہنماؤں کے خلاف 2023 میں چین کے فوجی انسدادِ بدعنوانی ادارے نے تحقیقات شروع کی تھیں۔
چینی صدر زی جن پنگ نے حالیہ برسوں میں فوج کے اندر بڑے پیمانے پر احتسابی مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت اعلیٰ فوجی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنوری میں چین کے اعلیٰ ترین فوجی افسر ژانگ یوشیا کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ژانگ یوشیا اس سے قبل چین کی فوجی قیادت میں روزمرہ امور کی نگرانی کرتے تھے۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی فروری میں جاری رپورٹ کے مطابق 2022 سے اب تک چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے کم از کم 36 جنرلز اور لیفٹیننٹ جنرلز کو برطرف کیا جاچکا ہے، جبکہ مزید 65 افسران یا تو لاپتا ہیں یا ممکنہ طور پر احتسابی کارروائی کی زد میں آچکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ چین کی فوج کی اعلیٰ قیادت کے 52 فیصد اہم عہدے اس مہم سے متاثر ہوئے ہیں، جس سے فوج کی عملی تیاری اور پیچیدہ عسکری کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
چینی سرکاری اخبار پی ایل اے ڈیلی نے حالیہ اداریے میں کہا کہ فوجی قیادت کے خلاف کارروائیوں کا مقصد “زہریلے اثرات” کا خاتمہ اور فوج کی مکمل تطہیر ہے تاکہ ایک مضبوط اور جدید فوج کی تشکیل ممکن بنائی جاسکے۔