پاک فوج ہر محاذ پر تیار، 14 اگست پریڈ میں طاقت کی جھلک دکھانے کا اعلان

راولپنڈی(ویب ڈیسک) پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی چار روزہ لڑائی کا ایک سال مکمل ہونے پر جمعرات کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، ائیر وائس مارشل طارق غازی اور ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف ریئر ایڈمرل شفاعت علی نے کہا ہے کہ بھارت اپنے ہی شہریوں پر دہشتگردی کرا کے اس کا الزام دوسروں پر عائد کرتا ہے، جبکہ پاک فوج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔

راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات آج بھی برقرار ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بھارت یہ بتائے کہ آخر کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا گیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کبھی ایک پیشہ ور فوج سمجھی جاتی تھی مگر اب وہ سیاست زدہ ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق پاک فوج نے دشمن کو ’’ملٹی ڈومین وار‘‘ میں شکست دی، یہ حقیقت بھارت کا بچہ بچہ جانتا ہے اگرچہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔

دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر تک دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد پاک فوج نے مختلف آپریشنز کیے اور 1800 دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔

اس موقع پر ڈپٹی چیف نیول آف اسٹاف ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال مئی میں اپنے بحری بیڑے کو متحرک کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے جارحیت کی ہمت نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بحری اثاثے مسلسل سمندر میں موجود ہیں اور ملک اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

سعودی عرب سے تعلقات پر اہم بیان

پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان اور اس کی فوج کا انتخاب ہر پاکستانی کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ان کے مطابق جیسے پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے، اسی طرح سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے دفاعی معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والا ملک ہے اور جو عہد کیا جاتا ہے اسے پورا کیا جاتا ہے۔

’’بھارت نے ہماری طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد دیکھا‘‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ ’’معرکہ حق‘‘ میں بھارت نے پاکستان کی مجموعی عسکری طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج پہلے بھی تیار تھی اور آج بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی کو پاکستان کی طاقت پر شک ہے تو 14 اگست کی پریڈ میں اس کی ایک جھلک مزید دیکھنے کو ملے گی۔

انہوں نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چاہے روایتی جنگ ہو یا غیر روایتی، پاکستان ہر سطح پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ صرف زمین، فضا اور سمندر تک محدود نہیں بلکہ سائبر اور ذہنی محاذ پر بھی جاری ہے، اور پاکستان ہر قیمت پر اپنے دفاع کو یقینی بنائے گا۔

’’معرکہ حق میں بھارت کے 8 طیارے گرائے گئے‘‘

پریس کانفرنس میں شریک پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف نے دعویٰ کیا کہ ’’معرکہ حق‘‘ کے دوران بھارت کے چار رافیل طیاروں سمیت مجموعی طور پر آٹھ طیارے تباہ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں ایک ایس یو-30، ایک مگ-29، ایک میراج طیارہ اور ایک جدید ملٹی رول ڈرون بھی شامل تھا۔ ان کے مطابق 29 اپریل کو چار رافیل طیاروں نے کشمیر ریجن میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاہم فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں