کراچی(انڈس ٹربیون) عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر ماہرین صحافت نے خبردار کیا ہے کہ میڈیا کو درپیش خطرات اب جسمانی تشدد سے ہٹ کر قانونی، ریگولیٹری اور معاشی دباؤ کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جو آزادیٔ اظہار کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
یوم آزادی صحافت کے حوالے سے سینٹر آف ایکسیلنس ان جرنلزم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر شاہزیب جیلانی نے کہا کہ یہ اجتماع ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے اس عزم کے اعادے پر زور دیا کہ صحافت کو عوامی مفاد کے تحت جرات اور ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا جائے، جبکہ صحافیوں کی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

‘شوٹنگ دی میسنجر – دی پرائس وی پے’ کے عنوان سے منعقدہ پینل میں اقبال خٹک نے معاشی دباؤ اور سائبر قوانین کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی، جبکہ عادل جاوید نے پیکا کے تحت ڈیجیٹل صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کی نشاندہی کی۔ شہزادہ ذوالفقار نے بلوچستان میں معلومات کی کمی اور رسائی کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ اس نشست کی نظامت نادیہ نقی نے کی۔
تقریب کے کلیدی مقرر، اسامہ جاوہد نے اپنے خطاب ‘آئی وٹنس ٹو ہسٹری: رپورٹنگ آن وار اینڈ جینوسائیڈ’ میں غزہ کے صحافیوں کو عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے محافظ قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایک اور پینل میں سدرہ ڈار، کرن خان اور یسری عسکری نے آن لائن ہراسانی اور نیوز روم کے دباؤ پر گفتگو کی، جبکہ شاہزیب احمد نے صحافیوں کو آن لائن بدسلوکی سے نمٹنے کے عملی طریقے بھی بتائے۔

تقریب کے اختتام پر ظفر عباس نے کہا کہ “ہتھیار ڈالنا کوئی آپشن نہیں”، اور ادارتی و مالی خودمختاری کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ غلط معلومات، خود ساختہ سنسرشپ اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے اس دور میں عوامی مفاد کی صحافت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے، جو نہ صرف احتساب کو ممکن بناتی ہے بلکہ امن اور خوشحالی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔