نعمت کھوڑو
عالمی یومِ صحافت اُن تمام شہیدوں کے نام، جنہوں نے قلم کی حرمت کی خاطر اپنی جان قربان کی، شہید ہوئے اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے سرخرو ہو گئے۔ دنیا اُن کے بارے میں کچھ بھی کہے، مگر میری نظر میں اُن کا مقام نہایت بلند اور عظیم ہے۔
اور عالمی یومِ صحافت اُن لوگوں کے نام بھی ہے، جنہوں نے اپنا لہو جلا کر اندھیرے معاشرے میں چراغ روشن کیا۔ اُنہوں نے اپنی جان تو نہیں گنوائی، مگر بہت کچھ کھو دیا، اور اپنے سے زیادہ اپنے خاندانوں کو نقصان پہنچایا۔ اُن میں سے کچھ توبہ تائب ہو کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے، جبکہ کچھ آج بھی سینہ تان کر سچ لکھ رہے ہیں اور سچ بول رہے ہیں۔ وہ آج بھی خطرات میں ہیں، مگر نہ اپنے پیشے پر پشیمان ہیں اور نہ شرمندہ—اُن کے لیے بے شمار محبتیں!
مجھے اپنے آپ پر فخر ہے کہ میں قلمکاروں کے اُس قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں، جن کا قلم کبھی کسی حکمران کی قصیدہ گوئی کے لیے استعمال نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ مظلوم طبقوں کا ہتھیار بنا۔ اس کے نتیجے میں جو بھی تکالیف اور اذیتیں ملیں، وہ میرے لیے ایک بڑے اعزاز اور انعام کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آج ہی فیس بک پر ایک دوست کی پوسٹ پڑھی کہ آج کا دن اُن صحافیوں کے نام ہے، جو صحافت کے موجودہ دلالی کے دور سے پہلے ہی صحافت چھوڑ گئے۔ میں اُس پوسٹ پر مسکرا دیا، کیونکہ آج بھی اکثر صحافی روبرو یہی کہتے ہیں کہ صحافت تو آپ کر رہے ہیں، ہم تو بس دلالی کر رہے ہیں۔ کچھ یہ بات مذاق میں کہتے ہیں اور کچھ سنجیدگی سے، اور پھر اُن کے سر جھک جاتے ہیں۔
ہم سب اُن کی مجبوریوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ جملہ ایک سینئر صحافی کا بھی تھا، جو میری کرسی پر آنا چاہتا تھا اور میرے ساتھ گھل مل کر رہتا تھا۔ ایک بار میں نے اُسے کہا کہ آپ صحافی ہیں، مالکان کے ذاتی کاموں، خاص طور پر فراڈ کے معاملات میں شامل نہ ہوں، آپ پچھتائیں گے۔ اُس نے ہنستے ہوئے کہا: نعمت صاحب! صحافت تو آپ کرتے ہیں، ہم تو بس کاروبار کرتے ہیں۔ میں نے اُسے پھر بھی سمجھایا، مگر اُس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اپنے کام میں لگا رہا۔
ایسے لوگ ایک دو نہیں بلکہ بے شمار ہیں، اور انہی کے کردار کی وجہ سے صحافت بدنام اور آلودہ ہوئی ہے۔
پہلے خبریں، بڑی نیوز اسٹوریز، فیچرز، خصوصی ایڈیشن، مضامین، کالم، انٹرویوز اور اداریے بولتے تھے، مگر آج کسی ایس پی، ڈی سی، یا کسی وڈیرے اور وزیر کے ساتھ سیلفی لینا صحافت کا عروج سمجھا جا رہا ہے۔ درحقیقت یہ حقیقی اور مقدس صحافت کے زوال کی انتہا ہے۔
بہرحال، ان تمام باتوں کے باوجود میں صحافت اور قلم کی جدوجہد سے مایوس نہیں ہوں۔ یہ حقیقت ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ قلم کی طاقت بندوق، ٹینک، میزائل اور کسی بھی بم سے زیادہ ہے۔ اسی لیے ہمیں ہمیشہ پُرامید رہنا چاہیے۔ قلم کی جدوجہد، عوامی سیاست اور عوامی مزاحمت ہی مظلوموں کی نجات کا درست راستہ ہیں، جن کے ذریعے ایک باوقار معاشرے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ صحافت میں جو بھی گندگی آئی ہے، وہ لالچی مالکان اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے اچھا لکھنے اور سوچنے والے صحافی پیچھے رہ گئے، اور اُن کی جگہ فراڈیوں، منشیات فروشوں، وڈیروں کے حواریوں اور پولیس کے مخبروں نے لے لی ہے۔ یہ ایک مافیا ہے، جسے میں نے 27 مارچ 2021 کو صالح پٹ سے سکھر تک پیدل مارچ کے دوران بے نقاب کیا تھا۔
میں نے پانچ سال پہلے کہا تھا کہ ظالم حکمرانوں، نام نہاد صحافیوں، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل ایک مافیا سندھ کی صحافت پر حملہ آور ہے، جو اجے کمار جیسے صحافیوں کو نگل رہی ہے۔
میں نے سندھ ہائی کورٹ سکھر کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کے جج سے کہا تھا کہ آپ اُن کتوں کا نوٹس لیتے ہیں جو بچوں کو کاٹتے ہیں، براہِ کرم اُن پاگل کتوں کا بھی نوٹس لیں جو صحافیوں کو کاٹ کر ختم کر رہے ہیں۔
اُس دن کے بعد سے میرے لیے مشکلات کا آغاز ہو گیا، اور مجھے کھلے عام دھمکیاں دی گئیں کہ مجھے مار دیا جائے گا یا اغوا کر لیا جائے گا، مگر میں نے ہمیشہ کہا: بسم اللہ، کیونکہ میں حق کے راستے پر تھا۔
بعد میں جب نصراللہ گڈانی کو شہید کیا گیا اور اس سے پہلے جان محمد مہر کا قتل ہو چکا تھا، تو مجھے ملازمت سے نکال دیا گیا، گویا میرا معاشی قتل کیا گیا۔ مگر مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں، کیونکہ میں سچ کے راستے پر تھا اور آج بھی ہوں۔
آج کا دن مجھے یہ موقع دیتا ہے کہ میں اپنے تجربات بھی بیان کروں، مگر شہید صحافیوں کے خون کے انصاف کے لیے اپنی جدوجہد کا زیادہ ذکر مناسب نہیں، کیونکہ سندھ کے لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں۔
نصراللہ گڈانی کی شہادت کے بعد ہم نے 84 شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ میں نے واضح کہا کہ اگر صحافیوں کے قاتلوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو ہم ریاستی اداروں کو بھی ذمہ دار سمجھیں گے۔
یہ ایک بڑی تحریک تھی، مگر سازشی عناصر پھر متحرک ہو گئے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ شراب کی محفلوں میں یہ شرط لگاتے تھے کہ مجھے کب اغوا یا قتل کیا جائے گا، مگر میں مسکراتا رہا اور آگے بڑھتا رہا۔
ایک بار ایک مالک نے کہا کہ اگر تمہیں ایجنسیاں اٹھا لے جائیں تو ہم صرف خبر چلائیں گے۔ میں نے جواب دیا کہ میں یہ سب کسی خبر کے لیے نہیں کر رہا، اور اگر میں مارا گیا تو تم تعزیت کے لیے بھی نہیں آؤ گے۔
اسی طرح جب میں نے تنخواہوں اور ملازمین کے حقوق کی بات کی تو مالکان ناراض ہو گئے، کیونکہ وہ خود پیشہ ورانہ اصولوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج بھی کئی صحافیوں کی تنخواہیں ایک عام خاکروب سے کم ہیں، اس لیے اس شعبے کو صنعت کہنا درست نہیں۔
بطور صحافی اور ایڈیٹر میں نے بھرپور کام کیا، ہزاروں اداریے لکھے، اور کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ میں نے ہمیشہ آزادی کے ساتھ لکھا اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا۔
آج بھی میرا یقین ہے کہ صحافت ختم نہیں ہوئی، نہ ہی قلم کی طاقت ختم ہوئی ہے۔ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو انقلاب ضرور آتا ہے۔
اگر آج صحافت آلودہ ہو گئی ہے تو اسی کے ساتھ بہتر صحافت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ہم اس دلالی والی صحافت سے نجات حاصل کریں گے۔
میں پُرامید ہوں کہ اس گندے ماحول سے ایک دن نیل کنول کی طرح پاک اور سچی صحافت جنم لے گی۔ دوستوں کو ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ مایوسی صرف کفر ہی نہیں بلکہ مکمل موت بھی ہے۔
(نعمت کھوڑو کا شمار سندھ کے نامور صحافیوں میں ہوتا ہے، وہ عرصہ دراز تک سندھی روزنامے کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں. وہ صحافیوں کے تنظیم سندھ صحافی اتحاد کے سربراہ بھی ہیں. اسی پلیٹ فارم سے انہوں نے صحافی اجے لالوانی کے قتل کے خلاف صحافتی تاریخ کا سب سے بڑا 37 کلومیٹر طویل پیادل لانگ مارچ کیا)