نوشکی: فورتھ شیڈول میں شامل معروف براہوئی شاعر و ادیب پروفیسر غمخوار حیات حملے میں جاں بحق

کوئٹہ/نوشکی(ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں معروف براہوئی شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات جاں بحق ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق واقعہ نوشکی شہر کے نواحی علاقے کلی مینگل کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے پروفیسر غمخوار حیات کو نشانہ بنایا۔

نوشکی پولیس کے ایس پی سلیم شاہوانی کے مطابق حملے کے نتیجے میں پروفیسر غمخوار حیات موقع پر جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکے جبکہ حملہ آوروں کی تلاش اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل صوبے کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

پروفیسر غمخوار حیات، جن کا اصل نام محمد خان تھا، ادبی حلقوں میں اپنے قلمی نام سے معروف تھے۔ ان کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا اور وہ مقامی سیاسی کارکن عبدالمجید ساسولی کے صاحبزادے تھے۔

اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 2014 میں براہوی زبان کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ وہ اس وقت ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق کچھ عرصہ قبل ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کا تبادلہ سبی کر دیا گیا، تاہم بعد ازاں وہ دوبارہ نوشکی میں تعینات ہو گئے تھے۔

ادبی شخصیات کے مطابق پروفیسر غمخوار حیات براہوی اور بلوچی زبانوں کے نمایاں شاعر، افسانہ نگار، مترجم اور ادیب تھے۔ ان کی 15 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی تھیں، جن میں شاعری اور ادب کے مختلف موضوعات شامل ہیں۔

ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کی وفات سے بلوچستان کی ادبی دنیا ایک اہم آواز سے محروم ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ تین روز قبل بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر سمیت چار افراد کو مستونگ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا.

صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی کے مطابق واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا، جب یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور، پرائیویٹ سیکریٹری ڈاکٹر ارشاد اور ان کا ڈرائیور گوادر سے کوئٹہ جا رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ کے مقام پر قومی شاہراہ این اے-25 پر مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر چاروں افراد کو اغوا کر لیا۔

انسانی حقوق کے تنظیم کی مذمت اور تشویش کا اظہار

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، جہاں شہری تیزی سے جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسند حملوں کے درمیان پس رہے ہیں۔

ایچ آر سی پی کے مطابق بلوچستان میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور دو دیگر ملازمین کے مستونگ میں مبینہ اغوا نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ افراد گوادر سے کوئٹہ سفر کر رہے تھے۔ یہ واقعہ ریاست کی جانب سے اہم شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت پر سوالیہ نشان ہے۔ ایچ آر سی پی نوشکی میں آج معروف استاد اور شاعر پروفیسر غمخوار حیات کے قتل پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت کو یاد دلاتا ہے کہ جب اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کو اغوا یا قتل کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف انفرادی سانحات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے مطالب کیا ہے کہ ریاست محض مذمتی بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ انسانی جانوں اور عوامی مقامات کا تحفظ اب بھی ممکن ہے۔ لاپتہ یونیورسٹی حکام کی فوری بازیابی، تمام حملوں کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کا احتساب فوری اور ناگزیر اقدامات ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں