ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو سزا: بی وائی سی کا بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف بدھ کے روز بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور بلوچ قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس احتجاجی ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں تاکہ “ناانصافی” کے خلاف اجتماعی آواز بلند کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو سنائی گئی سزائیں بلوچ قوم کے خلاف نفرت اور ناانصافی کا اظہار ہیں، اور اس فیصلے سے “مزاحمت اور جدوجہد کے ایک نئے تاریخی مرحلے” کا آغاز ہوگا۔

بی وائی سی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گوادر راجی مچی کیس میں عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا ایک غیر منصفانہ فیصلہ ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ کمیٹی کے مطابق مقدمے میں شواہد متضاد ہیں اور ایک ہی واقعے سے متعلق مختلف ایف آئی آرز موجود ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک ہی ایف سی اہلکار کی موت سے متعلق مختلف تاریخوں کا ذکر مقدمے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتا ہے، اور ایسے حالات میں عمر قید کی سزا “انصاف نہیں بلکہ جبر” کے مترادف ہے۔

کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ راجی مچی واقعے کے دوران تشدد کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت، زخمیوں اور معذوری کے واقعات پیش آئے، تاہم ان واقعات کے ذمہ داروں کو تاحال سزا نہیں ملی۔

بی وائی سی نے مؤقف اختیار کیا کہ ماہرنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی دراصل بلوچستان میں سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے، اور یہ مقدمہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے سیاسی اور سماجی شعور کا معاملہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ تنظیم اپنی “جمہوری اور سیاسی جدوجہد” جاری رکھے گی اور سزائیں عوامی تحریکوں کو نہیں روک سکتیں۔ کمیٹی نے کہا کہ اس فیصلے کو عوامی اور سیاسی سطح پر چیلنج کیا جائے گا۔

دوسری جانب سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس عدالتی فیصلے اور اس پر ردعمل کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بلوچستان میں کشیدگی اور احتجاجی ماحول کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں