نئے صوبے بنانا آسان نہیں، ملک کے حالات اور ساخت کو دیکھنا ہوگا: مولانا فضل الرحمان

کوئٹہ(ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانا کوئی آسان کام نہیں، اس حوالے سے فیصلہ کرتے وقت ملک کی ساخت، سیاسی حالات اور قومی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبے بنانا بذاتِ خود بری بات نہیں، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا موجودہ حالات میں ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔

انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر اس نوعیت کی بات نہیں کر سکتے، تاہم نئے صوبوں کے قیام جیسے معاملات پر سنجیدگی اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو جوائنٹ اپوزیشن کا اجلاس بلانا چاہیے تاکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر محمود خان اچکزئی اجلاس نہیں بلاتے تو جے یو آئی خود قومی سطح پر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلانے پر غور کرے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مرضی کی حکومتیں بنانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ان کے بقول ملک میں پارلیمنٹ کمزور ہو چکی ہے اور آئین کے مطابق نظام چلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں حالات کی بہتری کے لیے کوئی واضح قومی پالیسی موجود نہیں، جس کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو قومی مفاد اور انصاف پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کی سیاست پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے بلوچستان حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزیراعلیٰ بلوچستان بننے کے فیصلے سے وہ خود بھی لاعلم تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں