ایک بھی غیر آئینی شامل نہیں، ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے: سہیل آفریدی

پشاور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی مطالبات میں سے ایک بھی غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں، اس کے باوجود ان کی جماعت اور صوبے کے عوام کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے مذاکراتی کمیٹی کو اپنا تیار کردہ ڈرافٹ بھیجا ہے، جسے وہ اپنی قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات پہلے بھی موجود تھے، اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

مذاکراتی ڈرافٹ میں ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی اور امن و امان کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں تمام سیاسی اور قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ڈرافٹ کے مطابق وزیراعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کرنے اور اہم سیاسی، قومی، آئینی و قانونی معاملات پر دو ماہ کے اندر مؤثر پیش رفت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مطالبات میں وزیراعظم کی سربراہی میں حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، جو ایک ماہ کے اندر مذاکرات کے ذریعے قابلِ عمل حل تلاش کرکے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ ڈرافٹ میں جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی پر بھی زور دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطالبات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل مینول، آئین اور قوانین کے مطابق تمام قانونی، انسانی اور طبی سہولیات فراہم کرنے، ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے کو مدنظر رکھنے اور اہلِ خانہ، وکلا اور نامزد رفقا سے ملاقاتوں کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ڈرافٹ میں عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی قانونی درخواستوں پر دس دن کے اندر کارروائی شروع یا مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی مقدمات میں قید خواتین، بالخصوص یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہائی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بامعنی مشاورت، موجودہ پالیسیوں کے جائزے اور ضروری ترامیم کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں حکومتوں کے مجاز نمائندے 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس منعقد کرکے امن و امان کے لیے جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں۔

ڈرافٹ کے آخری نکتے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم یقین دہانیوں کی خلاف ورزی، مذاکراتی عمل میں بلاجواز تعطل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی صورت میں جماعت اپنا پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں