لکی مروت(ویب ڈیسک) حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ان کے علاج اور دیگر مطالبات کے لیے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ پہلے روز مارچ کے شرکا نے بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختمِ نبوت چوک پر پڑاؤ ڈال دیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق لانگ مارچ پیر سے دوبارہ شروع ہوگا اور مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا صوابی اور پھر پشاور پہنچے گا۔
لانگ مارچ کے پہلے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک کے دوران ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مارچ صوابی پہنچے گا تو وہاں لاکھوں افراد کا سمندر موجود ہوگا اور اس وقت تک تحریک ملک کے ہر کونے تک پھیل چکی ہوگی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے جانے والی کمیٹی کا مقصد سیاسی درجہ حرارت کم کرنا تھا، تاہم ان کے بقول ایک ایسا مائنڈ سیٹ بند کمروں میں فیصلے کرکے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کا وژن اور پالیسی چلے گی اور وہ ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے جس سے پشتونوں کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں صرف عمران خان کی سیاست اور وژن کی بالادستی ہوگی۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پر سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزیرِ اعلیٰ کا سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک پہنچنا توہینِ عدالت اور عدالتی ہدایات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ جب وزیرِ اعلیٰ خود عدالتی احکامات کی پاسداری نہیں کرتے اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے ریاستی وسائل استعمال کرتے ہیں تو ان کے کارکنوں سے قانون کی پابندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟