ڈاکٹر ماہرنگ ودیگر کی رہائی کا مطالبہ— اسلام آباد میں بلوچ خواتین اور بچوں کا دوران برسات کھلے آسمان تلے دھرنا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) — بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ اور زیرِ حراست سیاسی کارکنان کی رہائی کے مطالبے پر مشتمل ایک احتجاجی دھرنا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر جاری ہے۔ دھرنے کی قیادت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی بہن نادیا بلوچ کر رہی ہیں۔ مظاہرین میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو شدید بارش اور موسم کی سختی کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

احتجاجی کیمپ کے آغاز میں مظاہرین کی جانب سے پریس کلب کے سامنے ٹینٹ لگانے کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس کی بھاری نفری نے نہ صرف انہیں روک دیا بلکہ دھرنا ختم نہ کرنے کی صورت میں لاٹھی چارج کی دھمکی بھی دی۔ انسانی حقوق کی وکیل ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری کی جانب سے پولیس حکام سے مذاکرات کی کوشش بھی ناکام رہی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور سیاسی کارکنان کی غیرقانونی گرفتاریوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

“بلوچستان، معلومات کا بلیک ہول بن چکا ہے”

پریس کلب کے سامنے منعقدہ پریس کانفرنس میں نادیا بلوچ کا کہنا تھا؛

ایک بار پھر بلوچستان سے اسلام آباد آئے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید یہاں ہماری آواز سنی جائے۔ مگر افسوس ہے کہ ہمیں آج بھی ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے آنا پڑا کیونکہ بلوچستان کی صدائیں اپنی ہی سرزمین پر دبا دی جاتی ہیں۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی ادارے بلوچستان کے زمینی حقائق سے نظریں چرا کر ایک مصنوعی امن کا بیانیہ پیش کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں وہاں کے شہری ایک “بے رحم جنگ” کا سامنا کر رہے ہیں۔

کارکنان پر جعلی مقدمات کا الزام

نادیا بلوچ کے مطابق 19 مارچ 2024 کو ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر ساتھیوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی تھی تاکہ ریاستی ہراسانی کو بے نقاب کیا جا سکے۔ اس کے بعد ان پر جعفر ایکسپریس حملے سے منسلک الزامات عائد کیے گئے، جو مظاہرین کے مطابق “جھوٹ پر مبنی” ہیں۔

پریس کانفرنس کے بعد پورے بلوچستان میں ریاستی کریک ڈاؤن شروع ہوا، جس کے نتیجے میں 350 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کئی کو بعد میں رہا کر دیا گیا، لیکن ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبگر بلوچ، ماما غفار بلوچ، شاجی صبغت اللہ بلوچ اور عمران بلوچ تاحال قید میں ہیں۔

عدالتوں سے رجوع، مگر سماعت تعطل کا شکار

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ان افراد کو ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا، بعد ازاں عدالتوں سے رجوع کیا گیا، لیکن طویل التوا اور قانونی موشگافیوں کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کیے دو ماہ گزر چکے ہیں مگر اب تک سماعت نہیں ہو سکی۔

مظاہرین کے مطابق 22 جون کو ایم پی او کی مدت ختم ہونے کے باوجود ان افراد کو غیرقانونی طور پر مزید 20 دن قید رکھا گیا، اور پھر انہیں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر کے نئے مقدمات کے تحت تھانے منتقل کر دیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بلوچ سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ

دوسری جانب انسانی حقوق کے عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ “ارجنٹ ایکشن” میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بیبرگ زہری، گل زادی بلوچ، بیبو بلوچ، شاجی صبغت اللہ، ماما غفار اور دیگر کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان کو صرف اظہارِ رائے اور پُرامن احتجاج کے حق استعمال کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ نئے “بے بنیاد الزامات” عائد کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، اور ان کارکنان کی حراست کو مزید طول نہ دیا جائے۔

مظاہرین کے مطالبات

احتجاجی دھرنے میں شریک افراد نے دو بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں:

  1. تمام گرفتار سیاسی کارکنان کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے۔
  2. بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

مظاہرین نے پاکستانی میڈیا، سول سوسائٹی، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان، سیاستدانوں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر آواز اٹھائیں اور ریاستی جبر کے خلاف خاموشی توڑیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں