کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی وائرل ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ “عید سے چند دن پہلے کی ہے اور اس سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے”.
سوشل میڈیا پر گر دش کرنے والی ایک دل دہلانے والی ویڈیو نے لاکھوں لوگوں کو چونکہ دیا ہے۔ جس میں ایک درجن سے زائد افراد ایک پہاڑی علاقے میں ایک جوان خاتون اور مرد کو گولیاں مار کر بیدردی کے ساتھ قتل کر رہے ہیں۔
59سیکنڈ کی اس ویڈیو میں 19 لوگ دکھائی دے رہے ہیں، جس میں سے پانچ افراد کے ہاتھوں میں کلاشنکوف، پسٹل ودیگر اسلحہ موجود ہے۔ دو ڈبل کیبن اور ایک جیپ سے اترتے ہوئے تمام لوگوں کی ہجوم میں لال بلوچی لباس میں ملبوس ایک خاتون اور مرد کو لایا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں موجود لوگ براہوئی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے ہین : اس (خاتون) سے قرآن پاک لے لو۔ اور پہر اسی وقت بے خوف دکھائی دینے والی خاتون کی براہوئی زبان میں صرف اتنی آواز سنائی دیتی ہے کہ “آپ کو صرف گولی مارنے کی اجازت ہے، مجھے ہاتھ نہیں لگانا” اور پہر وہ کہتی ہیں “میں نے نکاح کیا ہے، زنا نہیں”.
ایسے میں خاتون (بانو ساتکزئی) ہجوم کے الٹی سمت پہاڑوں کی جانب منہ کر کے آگے بڑہتی ہے تو ہجوم کی قیادت کرنے والے ایک باریش شخص براہوئی زبان میں حکم دیتے ہوئے کہتا ہے “مارو اس کو”، اور پہر ایک شخص خاتون پر تین فائر کرتا” ہے، تیسری فائر میں خاتون زمین پر گر جاتی ہے۔ اور اگلے سمے خاتون کے ساتھ لائے گئے نوجوان مرد جو کہ ان کا شوہر بتایا جا رہا ہے پر گولیوں کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔

دل دہلانے والی یہ ویڈیوہفتے کے روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس پر لاکھوں صارفین شدید افسوس کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
واقعے کی تصدیق اور انکشافات
دی بلوچستان پوسٹ نامی خبر رساں ویب سائٹ نے اپنے ذرائع سے واقعے کی تصدیق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنی رپورٹ میں دی بلوچستان پوسٹ نے لکھا ہے کہ “یہ واقعہ کوئٹہ سے متصل مستونگ کے علاقے ڈغاری کے مقام پر عیدالاضحیٰ سے چند روز قبل پیش آیا، جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی” .
دی بلوچستان پوسٹ کی تحقیق کے مطابق قتل کیے گئے نوجوان کی شناخت احسان سمالانی کے نام سے ہوئی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان واقعہ کے چند روز قبل موٹر سائیکل پر سوار تھا جب قاتلوں نے اس کا تعاقب شروع کیا۔ وہ قریبی ایک گھر میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا، تاہم مقامی افراد نے اسے بعد ازاں ملزمان کے حوالے کر دیا۔
اپنی ذرائع کے مطابق ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ’ اس واقعے کے مرکزی کردار لڑکی کا بھائی جلال ولد بار جان ساتکزئی، نصیر ساتکزئی اور جاڑو ساتکزئی نامی افراد ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق احسان سمالانی جو پہلے ان کے تحویل میں تھا کو ملزمان کی جانب سے گولی ماری گئی۔ جب پہلی گولی سے وہ جانبحق نہ ہوا تو قاتل نےدوسری گولی اس کی آنکھ میں ماری گئی۔
مقتولین کی شناخت ہوگئی، ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا : وزیر اعلیٰ
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جوڑے کے بہیمانہ قتل کی تصدیق کرتے ہوئی مشتبہ ملزم کی گرفتار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ” کل سوشل میڈیا پر خاتون اور مرد کے قتل کی وائرل ویڈیو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان پولیس کو کاروائی کے احکامات جاری کئے تھے۔ ویڈیو میں مقتولین کی شناخت ہو چکی ہے، واقعہ عید سے چند دن قبل کا ہے۔ ریاست کی مدعیت میں دہشت گردی کا مقدمہ درج اور ایک مشتبہ قاتل گرفتار ہو چکا ہے، قانون اس گھناؤنے معاملے پر اپنا راستہ لے گا!

اس سے قبل ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ویڈیو کا نوٹس لے کر واقعے کی تحقیقات اور ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ اور ملزمان کا تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسی سفاکانہ حرکات ناقابل برداشت ہیں، حکومت مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔
نوٹ: یہ خبر اپڈیٹ کر دی گئی ہے۔