شکارپور (نامہ نگار) شکارپور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں خطرناک اور بدنام ڈاکو شہزور کمالانی جتوئی کو ہلاک کر دیا ہے، جو پولیس اہلکار میر محمد میمن کی شہادت سمیت کئی سنگین وارداتوں میں مطلوب تھا۔
ایس ایس پی شکارپور شاہزیب چاچڑ کے مطابق منگل اور بدھ کے درمیانی شب اسٹورٹ گنج تھانے کی حدود میں قاضی پمپ کے قریب 8 مسلح ملزمان مشکوک حالت میں موجود تھے، جنہیں پولیس کی آمد پر فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ جوابی کارروائی میں ڈاکو شہزور کمالانی جتوئی مارا گیا جبکہ اس کے ساتھی فرار ہو گئے۔
بدلے میں پولس اہلکار اغوا، ویڈیو وائرل
بھائی کی ہلاکت کی اطلاع پر ڈاکو شہزادو کمالانی جتوئی نے ساتھیوں سمیت خانپور کے قریب پارکو اسٹاپ پر واقع کلہوڑا پولیس پکٹ پر حملہ کر دیا، جس میں فائرنگ سے پولیس اہلکار زاہد شاہ زخمی ہو گیا اور ایک اور اہلکار واجد جونیجو کو اغوا کر کے لے جایا گیا۔

بعد ازاں شہزادو کمالانی نے مغوی اہلکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی، جس میں اس نے اپنے بھائی کی ہلاکت کو “جعلی پولیس مقابلہ” قرار دیتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات لگائے اور اہلکار کو قتل کر کے لاش دریا برد کرنے کی دھمکی دی۔
پولیس اور رینجرز کی جوابی کارروائی، دو ڈاکو ہلاک، مغوی اہلکار بازیاب
اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی شکارپور شاہزیب چاچڑ نے رینجرز ونگ کمانڈر کے ہمراہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے ساتھ خانپور تعلقے کے گاؤں سلطان کمالانی جتوئی میں کارروائی شروع کر دی۔

کارروائی کے دوران ڈرون کے ذریعے مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں شہزادو کمالانی کا دوسرا بھائی یار محمد عرف یارو کمالانی اور ایک اور ساتھی بھاگیو کمالانی مارے گئے۔ مزید ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 12 گھنٹوں کے اندر اندر مغوی پولیس اہلکار واجد جونیجو کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
پولیس کی کامیاب کارروائی پر وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی شکارپور اور ٹیم کو شاباش دی ہے۔