گورک ہل اسٹیشن کے ترقیاتی منصوبوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن، افسران معطل، تحقیقات کا حکم

کراچی (انڈس ٹربیون) سندھ کے واحد پہاڑی تفریحی مقام گورک ہل اسٹیشن کے ترقیاتی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ اربوں روپے جاری ہونے کے باوجود ریزورٹ اور دیگر اسکیمیں مکمل نہ ہوسکیں جبکہ محکمہ ثقافت و سیاحت متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ کمیٹی نے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرکے معطل کرنے اور اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں اراکین اسمبلی قاسم سراج سومرو، مخدوم فخرالزمان، طاحہ احمد، سیکریٹری کلچر و ٹورازم خیر محمد کلوڑ، ڈی جی گورک ہل اتھارٹی عطاء اللہ سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ گورک ہل اسٹیشن پر ریزورٹ سمیت دیگر ترقیاتی اسکیموں کے لیے 3 ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی، مگر 177 ملین روپے کا ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا۔

مہنگے داموں خریداری

اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ریسٹ ہاؤس کے کمروں کے لیے فرنیچر کی مد میں 2 کروڑ 44 لاکھ روپے خرچ کیے گئے لیکن اس کا ریکارڈ بھی دستیاب نہیں۔ اسی طرح گورک ہل کے لیے ایئرکنڈیشنرز، ایل ای ڈی ٹی وی اور دیگر اشیاء مارکیٹ ریٹ سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدی گئیں۔


ڈی جی آڈٹ کے مطابق ایک اسٹینڈ ایئرکنڈیشن جس کی مارکیٹ قیمت 3 لاکھ 30 ہزار روپے تھی، 10 لاکھ 50 ہزار روپے میں خریدی گئی، جبکہ اسپلٹ اے سی 2 لاکھ کے بجائے 4 لاکھ 50 ہزار روپے میں خریدا گیا۔

منصوبے مکمل کیوں نہ ہوسکے؟

پی اے سی نے سوال اٹھایا کہ اگر 2023ء کے بعد کوئی فنڈ جاری نہیں ہوا تو 2023-24ء میں 3 ارب روپے کیسے اور کہاں خرچ ہوئے؟ کمیٹی نے بتایا کہ ریزورٹ کے لیے 2 ارب 89 کروڑ روپے میں سے 94 فیصد رقم ٹھیکیداروں کو جاری کردی گئی لیکن ریزورٹ اب تک مکمل نہیں ہوا۔

چیئرمین پی اے سی کے ریمارکس

چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کہ گورک ہل سندھ کا اہم تفریحی مقام ہے لیکن یہ منصوبہ بھی آر بی او ڈی کی طرح بدنامی کا باعث بن چکا ہے۔ انجینئرنگ فالٹ اور بلوچستان کے پہاڑوں سے بہنے والا پانی گورک ہل کے روڈ کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس کے باوجود حکام کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔

گورک ہل اسٹیشن کا تاریخی و سیاحتی پس منظر

گورک ہل اسٹیشن سندھ کے ضلع دادو کے علاقے کیرتھر پہاڑوں میں سطح سمندر سے تقریباً 5,688 فٹ (1,733 میٹر) بلند ایک منفرد تفریحی مقام ہے۔ اسے سندھ کا ’’مری‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 1989ء میں اس مقام کو سیاحت کے فروغ کے لیے متعارف کرایا گیا لیکن باضابطہ طور پر 2006ء میں ’’گورک ہل ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ قائم کی گئی تاکہ سڑکوں، ہوٹلوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے اسے جدید ہل اسٹیشن بنایا جائے۔


یہ مقام نہ صرف سندھ بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے، تاہم سڑکوں، ریزورٹس اور دیگر سہولیات کی عدم تکمیل اور فنڈز کے غیر شفاف استعمال کی شکایات اس منصوبے کو مسلسل تنازعات اور بدنامی کا شکار بناتی رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں