کراچی (ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت سی ایم ہاؤس میں منعقدہ 40ویں پی پی پی (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) پالیسی بورڈ کے اجلاس میں کراچی اور حیدرآباد کے لیے 500 الیکٹرک بسوں کی خریداری کی منظوری دے دی گئی۔
یہ فیصلہ عوامی ٹرانسپورٹ کے معیار کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ منصوبہ ’’پیپلز گرین ٹرانسپورٹ پروجیکٹ‘‘ کے تحت عمل میں لایا جائے گا، جس کا مقصد کراچی، حیدرآباد، سکھر اور شہید بینظیرآباد سمیت سندھ کے بڑے شہروں میں صاف، جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ، جام اکرام اللہ دھاریجو، ضیاء عباس لنجار، اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
منصوبے کے تحت 500 الیکٹرک بسیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی، جو روزانہ دو لاکھ سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کریں گی۔ یہ بسیں گرین لائن بی آر ٹی اور دیگر ماس ٹرانزٹ نظاموں کے ساتھ منسلک کی جائیں گی تاکہ شہری ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔
پالیسی بورڈ نے کراچی پورٹ سے جام صادق پل تک 15.6 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کی تعمیر کی منظوری بھی دی، جو شہری ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ جدید، پائیدار اور صاف توانائی پر مبنی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق، یہ منصوبہ نہ صرف عوام کو سستی سفری سہولت فراہم کرے گا بلکہ فضائی آلودگی میں نمایاں کمی بھی لائے گا۔
مزید برآں، اجلاس میں مختلف اضلاع کے اسپتالوں میں ریڈیالوجی اور ڈائیگنوسٹک سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت چانڈکا، نوابشاہ اور لیاری جنرل اسپتال میں جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق، منصوبے کی تکمیل کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں برقی بسیں مرحلہ وار چلائی جائیں گی، اور یہ سندھ حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا ماحولیاتی ٹرانسپورٹ منصوبہ ہوگا۔