حیدرآباد: عبداللہ اسپورٹس ٹاور رہائشیوں کے لیے اذیت گاہ بن گیا، مرمت و دیکھ بھال کے نام پر لاکھوں روپے وصولی کے باوجود لفٹیں بند — شہری اہل خانہ سمیت یرغمال

حیدرآباد (انڈس ٹریبیون)حیدرآباد کے پوش علاقے عبداللہ اسپورٹس ٹاور کے رہائشیوں نے بلڈر کی کمپنی “عبداللہ پروجیکٹ مینجمنٹ کمپنی (APMC)” پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت، غیر منصفانہ رویے اور غیر قانونی اقدامات نے شریف شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

بلاک ای کے رہائشی غلام سرور جوکھیو نے بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ کو لفٹوں کی خرابی کی شکایت کی جو طویل عرصے سے بند ہیں، تاہم اس شکایت کے جواب میں انتظامیہ نے الٹا ان پر “بدتمیزی اور ہاتھا پائی” کا الزام لگا کر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ ادائیگی سے انکار پر فلیٹ کی بجلی منقطع کرنے کی دھمکی دی گئی۔

غلام سرور جوکھیو کے مطابق جب انہوں نے معاملہ سوسائٹی یونین کے نمائندوں کے سامنے رکھا تو یونین نے انتظامیہ سے ملاقات کی اور خفیہ کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ فوٹیج میں ان کے خلاف کسی بدتمیزی یا ہاتھا پائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کے باوجود ایڈمنسٹریٹر رانا شکیل اور سیکیورٹی سپروائزر نے ان کے فلیٹ کی بجلی بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا، جس کے باعث وہ اور ان کا خاندان فلیٹ کے اندر یرغمال بن گئے۔

متاثرہ رہائشی نے فوری طور پر یونین کے نمائندوں کو اطلاع دی، جنہوں نے مددگار 15 پولیس کو طلب کیا۔ پولیس کی موجودگی میں فلیٹ کا تالا توڑ کر غلام سرور جوکھیو اور ان کے اہل خانہ کو آزاد کرایا گیا اور بجلی بحال کر دی گئی۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بلڈر کی کمپنی نے ریٹائرڈ کرنل جواد طارق راٹھوڑ کو چیف ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کے بعد سے ہی رہائشیوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹاور کے 90 فیصد سے زائد فلیٹس کے مالکان کو مکمل ملکیتی حقوق حاصل ہیں، اس کے باوجود کمپنی کی جانب سے ہر ماہ لاکھوں روپے “مینٹیننس” (نگرانی و مرمت) کے نام پر زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں۔

رہائشیوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور عبداللہ پروجیکٹ مینجمنٹ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں