حیدرآباد(انڈس ٹربیون) معروف گلوکار سیف سمیجو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جب ہم نوعمری میں تھے تو شیخ ایاز، بلھے شاہ اور سچل سرمست کے مزاحمتی گیت گایا کرتے تھے، اُس وقت مذہبی حلقوں نے ہمارے خلاف مہم شروع کی ہوئی تھی۔ جامشورو اور کراچی کی یونیورسٹیوں میں کئی کنسرٹ منسوخ کر دیے گئے، لاہور اور اسلام آباد میں لفظی حملے تک ہوئے، اور خوف کے باعث کئی منتظمین نے ہمیں اسٹیج سے ہٹانا شروع کر دیا، کیونکہ وہ شاعری اور نوجوانوں کے شعور سے ڈرتے تھے۔
سیف سمیجو نے بتایا کہ بعد میں “لاہوتی میلہ” اور “آشرم” جیسے پروگرام شروع ہوئے، مگر جب کچھ سیشنز میں سیاسی نعروں یا حساس موضوعات پر بات ہوئی تو حکومت اور اداروں کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا کہ اگر ایسی گفتگو دوبارہ ہوئی تو میلہ بند کر دیا جائے گا۔ کئی مقامات پر اسی دباؤ کے باعث فیسٹیول منعقد نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ “میں نے اس وقت بھی صبر کیا کیونکہ مجھے اپنے نوجوان نسل سے محبت ہے، لیکن آج جب دیکھتا ہوں کہ یہی رویہ اب کچھ قوم پرست سیاسی افراد، شاعروں اور ادیبوں میں بھی نظر آتا ہے جو پوسٹس اور کمنٹس میں لکھتے ہیں کہ ‘سیف کو بین کرو، فیسٹیول سے نکالو، بائیکاٹ کرو’، تو حیرت ہوتی ہے۔ فرق کیا رہ گیا؟ کبھی مذہبی انتہا پسند ہمیں ‘کافر’ کہتے تھے، کبھی ادارے ‘ایجنٹ’، اور اب کچھ قوم پرست کارکن وہی باتیں دہرا رہے ہیں۔”
آخر میں سیف سمیجو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “پہلے میں مذہبی انتہا پسندوں اور اداروں کے ایجنٹس کو بلاک کرتا تھا، مگر آج اپنے ہی لوگوں، کچھ شاعروں اور ادیبوں کو بلاک کرنا پڑ رہا ہے۔ کتنا عجیب زمانہ ہے کہ سچ بولنا اور سوال کرنا ہی جرم بن گیا ہے۔”
سندھ کے نامور گلوکار سیف سمیجو حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر اپنی ایک فیس بک پوسٹ کے بعد زیر تنقید ہیں، مذکورہ پوسٹ انہوں نے قومپرست رہنماؤں غنی امان اور سرمد میرانی کی جبری گمشدگی کی مذمت کے ساتھ قومپرست جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا.