حیدرآباد میں آل سندھ لائرز کنوینشن، 27ویں آئینی ترمیم مسترد، 14 نومبر کو عدالتوں کا بائیکاٹ اور دھرنے کا اعلان

حیدرآباد (انڈس ٹربیون) حیدرآباد میں آل سندھ لائرز کنوینشن منعقد ہوا جس میں وکلا نے 27ویں آئینی ترمیم کو “آئین پر حملہ” قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ کنوینشن میں مطالبہ کیا گیا کہ ترمیم واپس نہ لی گئی تو بھرپور تحریک چلائی جائے گی، جب کہ 14 نومبر کو سیشن کورٹ سے وادھو واہ بائی پاس تک احتجاجی ریلی اور دھرنے کا اعلان بھی کیا گیا.

حیدرآباد بار میں منعقدہ کنوینشن میں آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے صدر عامر نواز وڑائچ، سیکریٹری حیدرآباد بار اسرا‌ر چانگ، کے بی لغاری، الطاف سچل اعوان، حسیب جمالی، حق نواز ٹالپر، سجاد چانڈیو، اشرف سموں، میر احمد مڱریو، اشعر مجید کھوکھر، بابر مسعود، رسول میمن، سید طارق شاہ، علی اکبر بروہی، جاوید بلیدی، رشید راجڑ، لیاقت سہتو، میاں تاج محمد کیریو، نورالحق قریشی، انیس الرحمن سمیت بڑی تعداد میں وکلا شریک ہوئے، جن میں خواتین وکلا بھی شامل تھیں۔
شرکا نے “ترمیم نامنظور” کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے.

وکلاء رہنماؤں نے خطاب میں کہا کہ:
“27ویں آئینی ترمیم، آئین پر حملہ ہے، اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ سندھ کا بٹوارا کسی قیمت پر منظور نہیں.”

انہوں نے مزید کہا کہ:

ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام کو مفلوج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے.

ایسی ترمیم نافذ کی جارہی ہے جو صوبائی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کو متاثر کرے گی.

ترمیم کے بعد آئینی عدالتیں بنا کر من پسند جج مقرر کیے جائیں گے، جس سے پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہوگا.

راتو رات ترمیمیں لاکر ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے.

26ویں ترمیم کی طرح اس بار بھی وفاق اپنے اختیارات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے.

رہنماؤں نے واضح کیا کہ:
“حکمران اپنے فائدے کے لیے بار بار آئین میں تبدیلیاں کر رہے ہیں، جو آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وکلا کبھی ایسی ترمیم کو قبول نہیں کریں گے.”

اس موقع پر آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے اور حیدرآباد ہائیکورٹ بار کے جنرل سیکریٹری اسرار چانگ نے اعلان کیا کہ:
“14 نومبر کو سیشن کورٹ سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جو قاسم آباد بائی پاس پر دھرنے کی صورت اختیار کرے گی۔ اس روز صوبے بھر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا.”

اپنا تبصرہ لکھیں