سرمد سندھی کی 29ویں برسی: سندھ کی فضاؤں میں آج بھی ان کی آواز کی گونج برقرار ہے

پریالوء(انڈس ٹربیون)سندھ کے نامور قومی گلوکار اور مزاحمتی موسیقی کی علامت سمجھے جانے والے سرمد سندھی کی 29ویں برسی ہفتے کو سندھ بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر پریالوء، سکھر، لاڑکانہ، رتودیرو سمیت مختلف شہروں اور دیہات میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں ان کی تصاویر کے سامنے دیے اور موم بتیاں روشن کی گئیں اور انہیں سرخ سلام پیش کیا گیا۔

تقریبات میں ادبی شخصیات، قوم پرست کارکنوں، فنکاروں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ سرمد سندھی صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ سندھ کی اجتماعی سوچ، مزاحمت اور شناخت کی آواز تھے، جو آج بھی ان کے گیتوں کے ذریعے زندہ ہے۔

سرمد سندھی اپنی منفرد، گونج دار اور اثر انگیز آواز کے باعث عوام میں غیرمعمولی مقبولیت رکھتے تھے۔ انہوں نے شیخ ایاز، استاد بخاری، آکاش انصاری، سمیع بلوچ، زاہد شیخ اور دیگر معروف شعرا کے قومی و انقلابی کلام کو اپنی آواز دی، جبکہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وائی گا کر صوفی روایت کو بھی نئی روح بخشی۔ ان کے گیتوں نے سندھ کی قوم پرست سیاست اور عوامی تحریکوں میں جان ڈال دی۔

سرمد سندھی 7 جولائی 1961 کو ضلع خیرپور کے پھولوں کے شہر پریالوء میں ایک سیٹلر پنجابی مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی خاندانی نام عبدالرحمان مغل تھا جو کہ بعد میں سندھ کی عشق میں سرمد سندھی کے طور پر مقبول ہوئے. پیشے کے اعتبار سے وہ انجینئر تھے، تاہم 1980 اور 1990 کی دہائی میں ان کی زندگی کا رخ مکمل طور پر موسیقی کی جانب مڑ گیا۔ ان کی صلاحیتوں کو سب سے پہلے کوثر برڑو نے پہچانا اور ریڈیو پاکستان پر انہیں گانے کا موقع ملا۔ بعد ازاں پاکستان ٹیلی وژن کے ہدایت کار سمیع بلوچ نے انہیں ٹی وی پر متعارف کرایا، جہاں سے ان کی شہرت کا سفر تیزی سے آگے بڑھا۔

سرمد سندھی نے سندھی کے ساتھ ساتھ سرائیکی اور اردو میں بھی گیت گا کر وسیع حلقے میں پذیرائی حاصل کی۔ جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں انہوں نے آمریت کے خلاف سیاسی تحریکوں، خصوصاً موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) کی حمایت میں گیت گائے، جو عوام کو متحرک کرنے کا ذریعہ بنے۔ ان کی آواز سندھ میں قوم پرست سیاست کے فروغ کا استعارہ بن گئی۔

ان کے گیت اس قدر مقبول ہوئے کہ دیہی علاقوں میں رات گئے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے والے ٹریکٹر ڈرائیور بھی ان کے گیت سن کر کام کرتے دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے شیخ ایاز، استاد بخاری، غلام حسین رنگریز، حلیم باغی اور ماموں جمن دربدر جیسے نامور سندھی شعرا کے کلام کو گایا اور اسے گلی گلی پہنچایا۔

سرمد سندھی کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں “وِکٹر آف سندھ” اور “سندھ جو بیجل” جیسے خطابات شامل ہیں۔ ان کی سوانح عمری “سندھ جو بیجل” ان کی وفات کے بعد 1998 میں شائع ہوئی۔

27 دسمبر 1996 کو ٹھٹھہ کے قریب ایک المناک ٹریفک حادثے (مبینہ طور پر قتل) میں ان کی موت نے سندھ کو اس کی ایک سریلی اور توانا آواز سے محروم کر دیا۔ تاہم آج بھی ان کے گیت عوامی جلسوں، ثقافتی تقریبات اور نجی محفلوں میں گونجتے ہیں۔

سندھ کی نامور سیاسی شخصیات، جن میں جی ایم سید، رسول بخش پليجو، بشیر قریشی اور قادر مگسی شامل ہیں، سرمد سندھی کی فنکارانہ اور فکری جدوجہد کی معترف رہی ہیں۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ سرمد سندھی کی آواز وقت کی قید سے آزاد ہو چکی ہے اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی حوصلے، شناخت اور مزاحمت کی علامت بنے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں