دوداپور (ویب ڈیسک) دوداپور تھانے کی حدود میں واقع گاؤں محمد ملوک لهر میں نامعلوم مسلح افراد نے جدید ہتھیاروں سے گھر پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں نینگری ساجده لهر اور نوجوان صدام حسین لهر جاں بحق ہو گئے، جبکہ نینگر محمد حنیف لهر شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی کو طبی امداد کے لیے لاڑکانہ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد مقتولین کے ورثاء اور لهر برادری نے جیکب آباد، گڑھی خیر روڈ پر دھرنا دے کر روڈ بلاک کر دیا، جس کی وجہ سے کئی گاڑیاں رکی رہ گئیں۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ برادری کا کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور دو افراد کو بلا جواز قتل کیا گیا ہے، دھرنا ملزمان کی گرفتاری تک جاری رہے گا۔
مقتولین کے بھائی کا کہنا تھا کہ تجارتی قرض کے تنازع کی وجہ سے ارباب محمد صدیق اور شریف میرالی نے ان پر قاتل بھیج کر حملہ کروایا، جس میں صدام حسین لهر اور ساجده جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب الزام عائد کیے گئے تاجر ارباب میرالی کا موقف بھی سامنے آیا، جنہوں نے کہا کہ وہ لهر برادری کے افراد کے قتل میں ملوث نہیں ہیں اور اگر ان پر قتل کا ثبوت ملا تو وہ 100 گنا ہرجانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔