کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال گروپوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، جہاں بہادرآباد میں پارٹی اجلاس کے بعد دونوں دھڑوں کے کارکنوں میں شدید جھڑپ، فائرنگ اور پتھراؤ کے واقعات پیش آئے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق بہادرآباد میں پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے، جس دوران ایم پی اے اعجازالحق اور رہنما ذاکر کے ساتھ مخالف گروپ کے کارکنوں نے ہاتھا پائی کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منگلا شرما اور سبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔
دوسری جانب بہادرآباد کے قریب مشتعل کارکنوں نے ہوائی فائرنگ کی جبکہ دونوں گروپوں کے کارکن ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور پتھراؤ بھی کیا۔ تصادم کے نتیجے میں کم از کم تین افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کے درمیانی شب بہادرآباد دفتر میں ایم کیو ایم خالد مقبول گروپ کا یوم آزادی کی مناسبت سے اجلاس ہو رہا تھا، اسی دوران مصطفیٰ کمال گروپ کے لوگ پہنچے اور وہیں اجلاس منعقد کرنا چاہا اسی دوران تلخ کلامی ہوئی اور بات لڑائی اور فائرنگ تک پہنچ گئی، شدید فائرنگ، ہاتھا پائی اور رکن سندھ اسمبلی اعجاز الحق، رکن قومی اسمبلی امین الحق، منگلا شرما ودیگر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد مشتعل کارکنان دفتر سے ڈی وی آر سسٹم اٹھا کر لے گئے۔
شدید کشیدگی کے بعد پولس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے الزام لگایا کہ مخالف گروپ کی جانب سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی، جس سے ان کا ایک کارکن زخمی ہوا، جبکہ پتھراؤ کے باعث بھی متعدد کارکن زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور وہاں نصب ڈی وی آر بھی ساتھ لے جایا گیا۔ امین الحق کا کہنا تھا کہ “اب یہ معاملہ مزید اسی طرح نہیں چل سکتا۔”
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاحال پولیس کی جانب سے واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔