کراچی (دی انڈس ٹربیون) سندھ کے قوم پرستوں، وکلا، ادیبوں اور دانشوروں سمیت پنجابی، پختون اور سرائیکی رہنماؤں نے سندھ کے تحفظ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی گئی تو کراچی سے کشمور تک بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کی اپیل پر ہفتے کے روز کراچی میں ریگل چوک سے کراچی پریس کلب تک ’’وحدتِ سندھ مارچ‘‘ کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مارچ کے شرکا نے سندھ اسمبلی میں نثار کھوڑو کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور نثار کھوڑو کے خلاف نعرے لگائے۔
مارچ میں وکلا، طلبہ، دانشوروں، ادیبوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، سول سوسائٹی اور مختلف زبانیں بولنے والے شہریوں نے شرکت کی۔ شرکا نے سندھ کی تاریخی، جغرافیائی، سیاسی اور انتظامی وحدت کے تحفظ کے ساتھ دریائے سندھ، پانی، زمین، ساحل اور قدرتی وسائل پر مبینہ قبضے کے خلاف بھی نعرے لگائے۔
مارچ کی قیادت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے قائم مقام صدر روشن علی برڑو، سندھ بار کے رہنما حسیب جمالی، کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ، کے بی لغاری، آفتاب خانزادہ، خواجہ نوید ایڈووکیٹ، امیر آزاد پنہور اور دیگر رہنماؤں نے کی۔
مقررین نے سندھ کو نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو کسی بھی نام، فارمولے یا طریقے سے تقسیم کرنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔ سندھ کی انتظامی وحدت محض نقشے پر کھینچی گئی لکیر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، جغرافیائی، تہذیبی اور سیاسی حقیقت ہے۔
مقررین نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی تقسیم کی کوشش مسترد کرتے ہیں۔ ان کے بقول نیا انتظامی یونٹ بنانے کا نعرہ سندھ کی وحدت پر حملہ ہے۔ سندھ ایک تاریخی اور آئینی اکائی ہے اور اس کی وحدت کو کمزور کرنا نہ صرف سندھ کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سالمیت اور وفاقی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ 1940 کی قراردادِ لاہور کے بنیادی تصور کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک کثیرالقومی وفاق ہے، جس کی مضبوطی باہمی احترام، آئینی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں سے متعلق مبینہ سازش میں ملوث عناصر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 سمیت قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ کی تقسیم، نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی جغرافیائی وحدت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے فوری طور پر باز آیا جائے۔ مقررین نے واضح کیا کہ یہ جدوجہد کسی زبان یا برادری کے خلاف نہیں بلکہ سندھ میں آباد تمام شہری، جو سندھ کو اپنا وطن سمجھتے ہیں، اس دھرتی کے برابر کے وارث ہیں۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ایاز قمی نے کہا کہ سندھ کے خلاف کوئی سازش قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایک مستقل وطن ہے اور اس کی تقسیم یا اس کے تیل، کوئلے اور دیگر قدرتی ذخائر کی مبینہ لوٹ مار قبول نہیں کی جائے گی۔