سکھر(رپورٹ: تاج رند) ضلعہ سکھر کے تحصیل پنوعاقل کے کچے میں ملزمان نے چوری واپس کرنے کے مطالبے پر بزگ شہری کو غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا، ملزمان نے بزرگ کو نیم برہنہ کر کے درخت سے باندھ کر کیڑے مکوڑے چھوڑ دیے اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔
سوشل میڈیا پر وائرل کردہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ درجن کے قریب ملزمان بزرگ شہری کو نیم برہنہ کر کے گالم گلوچ اور مارپیٹ کرتے ہوئے لے جا رہے ہیں، تھوڑے فاصلے پر لے جا کر بزرگ کو درخت سے باندھا جاتا ہے اور پھر گالیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے اس پر تشدد کے ساتھ کیڑے مکوڑے چھوڑ دئے جاتے ہیں۔
بزرگ شہری کو نیم برہنہ حالت میں درخت سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانے والی لرزہ خیز ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔ جس پر سوشل میڈیا صارفین افسوسناک واقعے کی مذمت کرنے کے ساتھ سکھر پولیس سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ڈویزنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) پنوعاقل ڈاکٹر محمد موسیٰ ابڑو کے مطابق بزرگ شہری کے ساتھ غیرانسانی سلوک کے واقعے کا مقدمہ دادلو پولیس اسٹیشن پر درج کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے کاروائی کی جا رہی ہے۔
ڈی ایس پی نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ دو روز قبل ۱۲ جون کو پیش آیا جبکہ ملزمان نے جمعے کے روز ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم شعبان عرف شھمیر بلو سکھر اور گھوٹکی پولیس کو قتل کے مقدمے میں مطلوب ہے، پولیس ہر ہفتے اس کی گرفتاری کیلئے ان کے گائوں پر چھاپے مارتی ہے لیکن ہر بار ملزم فرار ہوجاتا ہے۔

ڈی ایس پی کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والا بزرگ شھری محمد پنجل انڈھڑ سماجی رکن ہیں، علاقائی مسائل پر وہ ذاتی دلچسپی لے کر لوگوں کے مسائل حل کرانے میں مدد کرتا ہے۔ ایک سال قبل مقامی محنت کش نظیر انڈھڑ کی بکریاںچوری ہوئی تھیں، کچھ عرصہ قبل چوری کی گئی بکریاں ملزمان کے گائوں میں دیکھے گئے، جمعرات کے روز محمد پنجل قرآن پاک ساتھ لیکر اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ لعل پیر کے علاقے میں واقع ملزمان کے گائوں صالح جتوئی گیا، جہاں پر ملزمان نے ان کو نیم برہنہ کر کے درخت سے باندھا اور غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔ ملزمان کو شک تھا کہ پنجل ان کے مخالفین کی طرف سے مخبری کرنے ان کے گائوں آیا ہے۔
’افسوسناک واقعے کا پنوعاقل کے فرسٹ سول جج اینڈ جڈیشل مئجسٹریٹ نے بھی نوٹس لیا ہے، عدالت نے پولس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے، تین دن میں عدالت کو تحریری رپورٹ جمع کیا جائے گا‘ ڈی ایس پی نے بتایا
مقامی صحافی رستم انڈھڑ نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ ملزمان اشتہاری ہیں اور پولیس ان کو رگرفتار کرنے میں بے بس دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ شہری کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ملزمان نے خود ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی، تاکہ وہ علاقے میں اپنا خوف قائم رکھ سکے۔

ادھر پنوعاقل کے دادلو پولیس اسٹیشن پر متاثر بزرگ شہری محمد پنجل انڈھڑ کی مدعیت میں ۱۱ ملزمان کے خلاف جرم نمبر 33\2025 کے تحت مقدمہ درج کردیا ہے، جس میں شعبان عرف شھمیر بلو، علی بخش، عبداللطیف، رسول بخش عرف گدرو، غلام قادر عرف گڈو، جان محمد عرف جانو، سائینداد عرف سیندو، شاہین اور تین نامعلوم ملزم شامل ہیں۔