سندھ میں دو کمسن بچوں پر توہین مذہب کا مقدمہ درج، پولس نے ایک کو گرفتار کر لیا

سکھر(رپورٹ: تاج رند) سندھ کے ضلعہ سکھر میں پولس نے مقامی مذہبی رہنماؤں کے مدعیت میں الگ الگ تھانوں پر دو کمسن بچوں پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنے کے بعد ایک کو گرفتار کر لیا ہے۔

پنوں عاقل کے رہائشی مسجد کے پیش امام اور جے یو آئی کے مقامی رہنما خادم حسین چاچڑ کی جانب سے سٹی تھانے پر توہین مذہب کی شکایت درج کرائی گئی۔ شکایت گزار کے مطابق، وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فیس بک استعمال کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک ملزم کی فیس بک آئی ڈی پر خلیفہ دوئم سے متعلق نازیبا کلمات دیکھے۔

شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس توہین آمیز واقعے کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس شکایت کی بنیاد پر پنوں عاقل تھانے میں دفعہ 295 اے، کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو کہ توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔

پولیس کارروائی

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زیرالزام کمسن طالب علم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے وقت اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) کی جانب سے اس واقعے کی اطلاع تحریری طور پر درج کی گئی۔ پولیس نے FIR نمبر 71/2025 کے تحت کارروائی کی ہے۔

ڈویزنل سپرنٹینڈنٹ آف پولس (ڈی ایس پی) پنوعاقل محمد موسیٰ ابڑو کے مطابق 9 محرم کو صحابہ کے شان میں گستاخی کا الزام عائد کرنے کے بعد مولویوں کے ایک گروپ نے تھانے پر دھرنا دیتے ہوئے زیرالزام ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ڈی ایس پی ابڑو نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ “محرم کے 9 اور 10 تاریخ کے دوران مولوی صاحبان ہمارے پاس شکایت لے کر آئے کہ نعیم نامی لڑکے نے اپنی فیس بک آئی ڈی پر صحابہ کیلئے نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں, انہوں نے پولس کو اسکرین شاٹ بھی دکھائے، ہم نے حالات کو قابو رکھنے کیلئے زیر الزام نعیم کو حراست میں لیا، اور معاملہ پیس کمیٹی (جو کہ تمام فقہوں کے مذہبی رہنماؤں پر مشتمل ہے) کے حوالے کیا تاکہ مذہبی فریقین آپس میں مل بیٹھ کر معافی تلافی سے معاملے کو نپٹا لیں مگر پیس کمیٹی معاملے کو حل نہ کر سکی، اور بالآخر پولس کو مقدمہ درج کرنا پڑا۔

جیونائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے سیکشن 5 کے تحت( 18 سال سے کم عمر کسی بھی سنگین سے سنگین جرم کے مرتکب ملزم کو عام پولس لاکپ یا جیل میں نہیں رکھا جا سکتا)

انہوں نے بتایا کہ ملزم کو گرفتاری کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ پنوعاقل کی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ملزم کو 14 دن کیلئے جوڈیشل ریمانڈ پر پولس کے حوالے کر دیا ہے۔

مقامی صحافی ندیم بوزدار کے مطابق پنوعاقل کے سٹی پولیس نے الزام میں آنے والے طالب علم کے بہائی اور والد کو گرفتار کر لیا تھا بعد ازاں ملزم کی گرفتاری پیش کرنے پر ان کے والد اور بہائی کو رہا کیا گیا۔

صحافی ندیم بوزدار کے مطابق سٹی پولیس مقامی سطح پر علماء کرام اور امن کامیٹی سے لڑکے کی جانب سے معافی نامی کی درخواست پر معاف کرنے کا کہا گیا مگر مولویوں کے ایک گروہ نے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ جاری رکھا مقدمہ درج نہ کرنے کی صورت میں مولویوں کے ایک گروہ نے دس محرم الحرام کے سلسلہ میں نکلنے والے ماتم جلوس کا راستہ روکنے کا دھمکی بھی دیا گیا تھا۔

صحافی ندیم بوزدار نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے دو دن تک کمسن طالب علم پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا 11 محرم الحرام 7 جولائی کو ایک بار پہر مولویوں کے ایک گروپ نے تھانہ پر دھرنا دیا جس کے بعد جی یو آئی کے مقامی رہنما اور مسجد کے پیش امام کے مدعیت میں کمسن طالب علم پر گستاخی کا مقدمہ درج کیا گیا۔

گستاخی کے الزام میں گرفتار ہونے والے کمسن بچہ کون ہے؟

گستاخی کے الزام میں آنے والے طالب علم کی عمر تقریباً 14 سے 15 سال بتائی جا رہی ہے جبکہ وہ دسویں کلاس کے طالب علم ہیں۔ نوجوان کے والد ایک دھاڑی دار مزدور ہیں جو کہ ٹھیلا لگا کر گھر کا گذر سفر کرتے ہیں۔

کمسن بچوں کے حقوق کی پامالی

پنوعاقل میں گستاخی کے الزام میں طالب علم کی گرفتاری کے عمل میں کمسن بچوں کے حقوق کو پامال کیا گیا ۔

پولس نے کمسن طالب علم کو گرفتاری کے بعد پنوعاقل پولس اسٹیشن کے عام ملزموں کے لاکپ میں رکھا بلکہ لاکپ میں اس کی تصویر نکال کر میڈیا نمائندگان کے سوشل میڈیا گروپس میں بھی بھیجا۔

ماہر قانون بیرسٹر عاشر مسعود نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ ” جیونائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے سیکشن 5 کے تحت 18 سال سے کم عمر کسی بھی سنگین سے سنگین جرم کے مرتکب ملزم کو عام پولس لاکپ یا جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، ایسے ملزم کے عمر کی تصدیق کے بعد اس کو تفتیش کیلئے آبزرویشن ہوم میں رکھا جائے گا، اگر کسی شہر میں آبزرویشن ہوم نہیں تو اس کو وومین پولس اسٹیشن پر رکھا جائے گا۔

بیرسٹر عاشر مسعود کے مطابق جیونائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے سیکشن 13 کے مطابق کمسن ملزم کی شناخت خفیہ رکھنی ہے، اگر کسی نے بھی کمسن ملزم کی شناخت کہیں پر بھی ظاہر کیا تو اس کو تین سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کے حلقے میں بھی کم عمر بچے پر گستاخی کا مقدمہ درج۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر اویس شاہ کے حلقے کے تھانہ صالح پٹ میں بھی ایک 15 سالہ بچے پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کر کیا گیا ہے ۔

جمعیت علمائے سکندریہ کے ضلع جنرل سیکرٹری علامہ مولانا نذیر احمد کے مدعیت میں 15 سالہ طالب علم پر بھی توہین کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ جس میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم نے اپنی فیس بک آئی ڈی پر خلفاء اسلام کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق صالح پٹ تھانہ پر بھی مولویوں کے ایک گروپ نے دس اور 11 محرم کے روز تھانہ پر بڑی تعداد میں دھرنہ دے کر طالب علم کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تاحال طالب علم کی گرفتاری عمل میں نہ آنے پر صالح پٹ تھانہ پر طالب علم پر گستاخی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ادھر دونوں واقعات کے بعد علاقے میں صورت حال کشیدہ ہے، انسانی حقوق کے کارکنوں اور کچھ سیاسی حلقوں نے اس کیس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور الزام میں آنے والوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی معصوم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔

اپنا تبصرہ لکھیں