کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں جمعے کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ممتاز قانون دان خواجہ شمس الاسلام کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جب کہ ان کے بیٹے دانیال خواجہ شدید زخمی ہو گئے۔ واقعہ مسجد قرآن اکیڈمی کے باہر اس وقت پیش آیا جب خواجہ شمس الاسلام تاجر رہنما مزمل پراچہ کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد باہر نکلے۔
کراچی پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا شخص خواجہ شمس الاسلام کے سابق گن مین کا بیٹا عمران آفریدی ہے، جس نے اس سے قبل بھی چند ماہ پہلے ان پر حملہ کیا تھا۔ حملہ آور نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا اور روایتی لباس میں ملبوس تھا۔ فائرنگ کے بعد اس نے بلند آواز میں کہا: “میں نے اپنے والد کا بدلہ لے لیا”، جسے عینی شاہدین نے سنا۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق جائے وقوعہ کے اطراف نصب تین سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کر لی گئی ہیں، جن میں حملہ آور کا چہرہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ فوٹیج میں ایک اور شخص بھی دکھائی دے رہا ہے جو حملہ آور کو بیک اپ فراہم کر رہا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ شہر سے باہر جانے والے تمام راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے، جبکہ سہراب گوٹھ سمیت دیگر بس اڈوں پر سخت چیکنگ جاری ہے۔ ملزم کی تصاویر اور تفصیلات تمام چیک پوسٹس کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
خواجہ شمس الاسلام پر یہ دوسرا قاتلانہ حملہ تھا۔ اس سے قبل 2024 میں ایک حملے میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ وہ سندھ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن رہ چکے تھے، اور زمینی تنازعات سمیت کئی ہائی پروفائل کیسز کی پیروی کر رہے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، انہوں نے ہدایت دی ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
خواجہ شمس الاسلام کی ناگہانی موت پر وکلا برادری شدید غم و غصے میں ہے۔ کراچی بار کونسل نے واقعے کے خلاف 2 اگست کو عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ صدر بار عامر نواز وڑائچ کے مطابق تمام کورٹ ورک معطل رہے گا اور ساڑھے 11 بجے جناح آڈیٹوریم میں جنرل باڈی کا اجلاس ہوگا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ہر پہلو سے جاری ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔