“موہن جو دڑو” تہذیبی ورثے کا اصل نگہبان انڈیا ہی ہے: بھارتی وزیر ثقافت کا دعویٰ اور پاکستانیوں کا ردعمل

نئی دہلی/اسلام آباد(ویب ڈیسک) انڈیا کی وزارت برائے ثقافت کی جانب سے موہن جو دڑو اور وادیٔ سندھ تہذیب سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تاریخی ورثے کی ملکیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارتی وزارت کے مطابق ویدک دور سے موجودہ بھارت تک ایک مسلسل تہذیبی اور روحانی تسلسل موجود ہے: فوٹو ایکس

بھارتی وزارتِ ثقافت نے گجیندرہ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک قدیم مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ “قدیم کھنڈرات چاہے آج کی سرحدوں کے دوسری جانب ہوں، لیکن اس تہذیبی ورثے کا اصل نگہبان انڈیا ہی ہے۔”

27 مئی کو کی گئی پوسٹ میں موہن جو دڑو سے ملنے والی تقریباً 4300 سال قدیم “پشوپتی مہر” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس پر موجود شخصیت یوگ کی مخصوص حالت “ملابندھاسن” میں بیٹھی دکھائی دیتی ہے، جسے عموماً شِوا پشوپتی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بھارتی وزارت کے مطابق ویدک دور سے موجودہ بھارت تک ایک مسلسل تہذیبی اور روحانی تسلسل موجود ہے، جس کے آثار آج بھی یوگا، مندروں اور مذہبی رسومات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاہم اس بیان پر پاکستان میں شدیدa ردعمل سامنے آیا اور متعدد صارفین نے بھارتی مؤقف کو “تاریخی حقائق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش” قرار دیا۔

پاکستانی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ موہن جو دڑو موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں واقع ہے اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 1980 میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

موہن جو دڑو، وادیٔ سندھ تہذیب کا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا ہے۔ یہ قدیم شہر تقریباً 2500 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک ترقی کرتا رہا اور ماہرین کے مطابق یہاں کم از کم 40 ہزار افراد آباد تھے۔

یہ شہر اپنی جدید شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کے نظام، ڈھکے ہوئے نالوں، نجی غسل خانوں اور اجتماعی “عظیم حمام” کے باعث دنیا کی قدیم ترین منظم شہری آبادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس مقام کی اہمیت پہلی بار 1922 میں اس وقت واضح ہوئی جب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے افسر آر ڈی بینرجی نے یہاں کھدائی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل کی نگرانی میں مزید دریافتوں نے دنیا کو وادیٔ سندھ تہذیب کی ترقی یافتہ شہری زندگی سے روشناس کرایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب جنوبی ایشیا کی مشترکہ تاریخی میراث ہے، جسے موجودہ سیاسی سرحدوں کی بنیاد پر مکمل طور پر کسی ایک ملک سے منسوب کرنا تاریخ کے پیچیدہ تناظر کو سادہ بنانے کے مترادف ہے۔

بھارتی وزیر ثقافت کی جانب سے موہن جو دڑو اور وادیٔ سندھ تہذیب سے متعلق دعوؤں کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان اور بھارت کے صارفین کے درمیان سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں تاریخی ورثے اور تہذیبی شناخت پر بحث چھڑ گئی۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارف نواب اسد جٹ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “جلد بھارتی ایک گہرے شناختی بحران کا شکار ہوں گے کیونکہ گزشتہ 80 برسوں میں انہوں نے جو شناخت بنائی، وہ پاکستان سے چرائی گئی تھی۔”

اس پر بھارتی ایکس صارف سپنل پنہوار نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ “1947 سے پہلے پاکستان میں جو کچھ بھی تھا وہ بھارت کا ہے، اسے سو مرتبہ پڑھیں اور یاد کرلیں۔”

دوسری جانب پاکستانی صارف شاذی اتمانزی نے بھارتی صارفین پر ثقافتی ورثہ چرانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “بھارتی ثقافتی چوری کرتے ہیں اور پھر اسے اپنا قرار دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ‘انڈیا’ کا نام بھی دریائے سندھ سے لیا گیا، جو پاکستان میں بہتا ہے۔ لباس، گیت اور دیگر ثقافتی پہلو بھی پاکستان سے لیے گئے۔”

ایک اور صارف تیمور ملک نے کہا کہ وادیٔ سندھ تہذیب کی اصل تاریخ پاکستان سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ اس تہذیب کا مرکز دریائے سندھ کے کنارے موجودہ پاکستان میں واقع تھا۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نرندرہ مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ “پشوپتی مہر” کو ہندو دیوتا شِو سے جوڑ کر سیاسی مقاصد کے لیے تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موہن جو دڑو سندھ، پاکستان میں واقع ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ ورثہ پاکستان کی سرزمین کا حصہ ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں بعض صارفین نے وادیٔ سندھ تہذیب کو مشترکہ جنوبی ایشیائی ورثہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے قومی شناخت اور سیاسی بیانیے سے جوڑتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں