اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کوئٹہ میں مسافر ٹرین پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان میں عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا خطرناک اشارہ قرار دیا ہے۔
ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جہاں شہری، مزدور، مسافر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل تشدد، اغوا اور عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
تنظیم نے کہا کہ اتوار کو کوئٹہ میں مسافر ٹرین پر ہونے والا بم دھماکہ، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ متاثرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، صوبے میں عام شہریوں پر حملوں میں تشویشناک اضافے کی علامت ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
بیان میں چاغی کے ریکوڈک منصوبے کے مقام اور ضلع زیارت میں حالیہ واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جہاں اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسلح افراد نے کم از کم 21 شہریوں کو اغوا کیا، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا، جبکہ متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔
ایچ آر سی پی نے کہا کہ اس سے قبل مئی کے اوائل میں نوشکی اور قلات میں بھی مسلح افراد کی جانب سے اغوا کے واقعات پیش آئے تھے، جہاں پانچ مزدوروں اور پانچ پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا۔
تنظیم نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے یہ واقعات ریاستی عملداری کے کمزور ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایچ آر سی پی نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات یا بدامنی کی صورتحال میں شہریوں اور غیر مسلح افراد کو کسی بھی صورت دباؤ یا سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
بیان کے اختتام پر ایچ آر سی پی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث تمام عناصر کا احتساب یقینی بنایا جائے۔